اتوار، 14 دسمبر، 2014
جمعرات، 4 دسمبر، 2014
A man discovered 179 yrs old in India, "Death has forgotten me" || My grand children are dead there for yrs. Somehow forgot me death " Mahashta Mûrasi is an Indian who claims to be born in 1835.
According to indian officials, the man was born at home in the city of Bangalore on January 6th 1835, and is recorded to have lived in Vârânasî since 1903. He worked as a cobbler in the city until 1957, when he retired at the already venerable age of 122.
“I have been alive so long, that my great grand-children have been dead for years” explains Mr Mûrasi. “Somehow death forgot about me… And now there’s hardly any hope left. Look at the statistics, nobody dies past 150, even less at 170. At that point, I guess I’m immortal or something. I might as well enjoy it!”
The man’s birth certificate and identity cards all seem to confirm his version, but unfortunately no medical examination can confirm his saying for now. The last doctor Mister Mûrasi visited died in 1971, so there is little information available about his previous medical files.
A man discovered 179 yrs old in India! He left hope to die
Posted on by blogger with No comments
A man discovered 179 yrs old in India, "Death has forgotten me" || My grand children are dead there for yrs. Somehow forgot me death " Mahashta Mûrasi is an Indian who claims to be born in 1835.
According to indian officials, the man was born at home in the city of Bangalore on January 6th 1835, and is recorded to have lived in Vârânasî since 1903. He worked as a cobbler in the city until 1957, when he retired at the already venerable age of 122.
“I have been alive so long, that my great grand-children have been dead for years” explains Mr Mûrasi. “Somehow death forgot about me… And now there’s hardly any hope left. Look at the statistics, nobody dies past 150, even less at 170. At that point, I guess I’m immortal or something. I might as well enjoy it!”
The man’s birth certificate and identity cards all seem to confirm his version, but unfortunately no medical examination can confirm his saying for now. The last doctor Mister Mûrasi visited died in 1971, so there is little information available about his previous medical files.
ہفتہ، 15 نومبر، 2014
دبئی (ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں بدھ سے ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹرام سروس کا آغاز ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے حادثات سے بچانے کیلئے 150 پولیس افسران اور 64 سپیڈ کیمروں کی مدد لی جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس نے شہر میں گاڑیاں چلانے والے افراد کو خبر دار کیا ہے کہ اگر شہر کی سڑکوں پر ٹرام کے راستے پر واقع 30 جنکشنوں میں سے کسی پر بھی وہ تصادم کا باعث بنے تو انہیں 30 ہزار درہم تک جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
دبئی: ٹرام سروس شروع، راستے میں آنے والے کو جرمانہ ہوگا
Posted on by blogger with No comments
دبئی (ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں بدھ سے ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹرام سروس کا آغاز ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے حادثات سے بچانے کیلئے 150 پولیس افسران اور 64 سپیڈ کیمروں کی مدد لی جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس نے شہر میں گاڑیاں چلانے والے افراد کو خبر دار کیا ہے کہ اگر شہر کی سڑکوں پر ٹرام کے راستے پر واقع 30 جنکشنوں میں سے کسی پر بھی وہ تصادم کا باعث بنے تو انہیں 30 ہزار درہم تک جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کو یہ جان کر یقینا خوشگوار حیرات ہو گی لاہور صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک لاہور ہے جو کہ عنقریب اپنی مشرقی خوبصورتی، روایات، کھانوں اور زندہ دلی کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔ امریکہ کا لاہور دارالحکومت واشنگٹن سے 75 میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ہے جس کی بنیاد 1850ءکی دہائی میں ایک امریکی جوڑے نے موجودہ پاکستانی لاہور کی جنگ آزادی کے حوالہ سے شہرت سے متاثر ہو کر رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نور نغمی نے پاکستانی لاہور کی محبت سے سرشار ہو کر 235 ایکڑ پر مشتمل امریکی لاہور کو 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید لیا ہے اور اب وہ اسے لاہوری ثقافت اور روایات کا مرکز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ امریکی لاہور میں شالامار باغ کی طرز کا ایک ضیافت خانہ، لائبریری، میوزیم اور پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ کھولے جائیں۔ انہوں نے امریکی لاہور کی عمارتوں کو پاکستانی لاہور کی شکل دینے کیلئے حیدر آباد کے ایک فلم سٹوڈیو سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ نور نغمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی لاہور میں پاکستانی لاہور کے انداز میں بھرپور طریقے سے رنگا رنگ بسنت بھی منائی جائے گی۔
Lahore in America
Posted on by blogger with No comments
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کو یہ جان کر یقینا خوشگوار حیرات ہو گی لاہور صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک لاہور ہے جو کہ عنقریب اپنی مشرقی خوبصورتی، روایات، کھانوں اور زندہ دلی کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔ امریکہ کا لاہور دارالحکومت واشنگٹن سے 75 میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ہے جس کی بنیاد 1850ءکی دہائی میں ایک امریکی جوڑے نے موجودہ پاکستانی لاہور کی جنگ آزادی کے حوالہ سے شہرت سے متاثر ہو کر رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نور نغمی نے پاکستانی لاہور کی محبت سے سرشار ہو کر 235 ایکڑ پر مشتمل امریکی لاہور کو 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید لیا ہے اور اب وہ اسے لاہوری ثقافت اور روایات کا مرکز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ امریکی لاہور میں شالامار باغ کی طرز کا ایک ضیافت خانہ، لائبریری، میوزیم اور پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ کھولے جائیں۔ انہوں نے امریکی لاہور کی عمارتوں کو پاکستانی لاہور کی شکل دینے کیلئے حیدر آباد کے ایک فلم سٹوڈیو سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ نور نغمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی لاہور میں پاکستانی لاہور کے انداز میں بھرپور طریقے سے رنگا رنگ بسنت بھی منائی جائے گی۔
ہفتہ، 18 اکتوبر، 2014
نیو یارک ( نیوز ڈیسک ) پاکستان جیسے غریب ممالک میں ہر سال لاکھوں خواتین کی ہلاکت دوران زچگی ہو جاتی ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ان خواتین کا مناسب خوراک سے محروم ہونے کی وجہ سے کمزوری اور بیماری کا شکار ہونا بھی ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
ماں بننے والی خواتین کی درد کم کرنے کا انتہائی آسان نسخہ
Posted on by blogger with No comments
نیو یارک ( نیوز ڈیسک ) پاکستان جیسے غریب ممالک میں ہر سال لاکھوں خواتین کی ہلاکت دوران زچگی ہو جاتی ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ان خواتین کا مناسب خوراک سے محروم ہونے کی وجہ سے کمزوری اور بیماری کا شکار ہونا بھی ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
جمعرات، 24 جولائی، 2014
دودھ کا خالص پن جاننے کا طریقہ
23 جولائی 2014 (21:51)
نیودہلی (نیوزڈیسک ) خالص پن ایک روایتی اصطلاح ہے، جو برصغیر پاک و ہند میں اکثر کھانے پینے کی چیزوں کےلئے استعمال کی جاتی ہے، اور کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ یہاں ایک عام مشق بن چکی ہے۔ اشیائے خوردو نوش میں دودھ کو ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے، لیکن دودھ میں ملاوٹ اور پانی ملانے کی شکایات زبان زد عام اور یہ مکروہ دھندہ سرعام جاری ہے۔ گوالے خالص دودھ کا کہہ کر پانی ملا دودھ فروخت کر رہے ہیں، تو ایسے میں ہم آپ کو آلائشوں سے پاک دودھ کا معیار چیک کرنے کے گھریلو طریقے بتاتے ہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
How to Check Milk In Urdu
Posted on by blogger with No comments
دودھ کا خالص پن جاننے کا طریقہ
23 جولائی 2014 (21:51)
نیودہلی (نیوزڈیسک ) خالص پن ایک روایتی اصطلاح ہے، جو برصغیر پاک و ہند میں اکثر کھانے پینے کی چیزوں کےلئے استعمال کی جاتی ہے، اور کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ یہاں ایک عام مشق بن چکی ہے۔ اشیائے خوردو نوش میں دودھ کو ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے، لیکن دودھ میں ملاوٹ اور پانی ملانے کی شکایات زبان زد عام اور یہ مکروہ دھندہ سرعام جاری ہے۔ گوالے خالص دودھ کا کہہ کر پانی ملا دودھ فروخت کر رہے ہیں، تو ایسے میں ہم آپ کو آلائشوں سے پاک دودھ کا معیار چیک کرنے کے گھریلو طریقے بتاتے ہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
ہفتہ، 12 جولائی، 2014
مُردوں کو بھوننے والا قبیلہ
11 جولائی 2014 (23:12)
پورٹ موریسبے (نیوز ڈیسک) بر اعظم آسٹریلیا کے دو رافتادہ ملک پاپوانیوگنی میں لوگ اپنے مردہ رشتہ داروں کے ساتھ جو بھیانک سلوک کرتے ہیں وہ شاید ہی آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہو۔ انگا قبیلے کے لوگ مرنے والے لوگوں کے جسم سے چربی نکال کر اس سے کھانے پکاتے ہیں اور لاشوں کو مصالحے لگانے کے بعد بھون کر نمایاں مقامات پر لٹکا دیتے ہیں۔ پاپوانیوگنی کے علاقے موروب میں جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے گھر والے اسے بھوننے کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ پہلے تجربہ کار لوگ لاش کے پاﺅں، گھٹنوں اور کہنیوں میں تیز دھار آلے سے چیر الگاتے ہیں تاکہ جس کی چربی ٹپک ٹپک کر باہر نکل آئے، اس چربی کو زندگی اور صحت بخشنے والی طاقت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور لوگ اسے جسم پر ملنے کے علاوہ اس میں کھانا پکا کر بھی کھاتے ہیں۔ چربی نکالنے کے بعد لاش کی آنکھوں، کانوں اور منہ سمیت جسم کے تمام سوراخوں کو سی دیا جاتا ہے تاکہ ہوا جسم میں داخل نہ ہو۔ لاش کے پیروں کے تلوے، ہتھیلیوں کی جلد اور زبان کاٹ کر علیحدہ کرلی جاتی ہے اور یہ قریبی ترین عزیز کو پیش کردی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ جلائی جاتی ہے اور لاش کو اس کے اوپر دھویں میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ دھویں اور حرارت کے عمل سے لاش بھن جاتی ہے۔ اس کے بعد لاش کے اوپر چکنی مٹی اور گیرو کا لیپ کیا جاتا ہے اور اسے بلندی پر بانسوں کا گھونسلا بنا کر اس میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ سارے علاقے میں لاشیں گھونسلوں میں بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ لاشیں ان کی نگرانی کرتی ہیں اور انہیں بلاﺅں سے محفوظ رکھتی ہیں، موروب ہائی لینڈز کے علاقے میں کئی لاشیں 200 سال سے اپنی نسلوں کی نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
مُردوں کو بھوننے والا قبیل
Posted on by blogger with No comments
مُردوں کو بھوننے والا قبیلہ
11 جولائی 2014 (23:12)
پورٹ موریسبے (نیوز ڈیسک) بر اعظم آسٹریلیا کے دو رافتادہ ملک پاپوانیوگنی میں لوگ اپنے مردہ رشتہ داروں کے ساتھ جو بھیانک سلوک کرتے ہیں وہ شاید ہی آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہو۔ انگا قبیلے کے لوگ مرنے والے لوگوں کے جسم سے چربی نکال کر اس سے کھانے پکاتے ہیں اور لاشوں کو مصالحے لگانے کے بعد بھون کر نمایاں مقامات پر لٹکا دیتے ہیں۔ پاپوانیوگنی کے علاقے موروب میں جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے گھر والے اسے بھوننے کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ پہلے تجربہ کار لوگ لاش کے پاﺅں، گھٹنوں اور کہنیوں میں تیز دھار آلے سے چیر الگاتے ہیں تاکہ جس کی چربی ٹپک ٹپک کر باہر نکل آئے، اس چربی کو زندگی اور صحت بخشنے والی طاقت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور لوگ اسے جسم پر ملنے کے علاوہ اس میں کھانا پکا کر بھی کھاتے ہیں۔ چربی نکالنے کے بعد لاش کی آنکھوں، کانوں اور منہ سمیت جسم کے تمام سوراخوں کو سی دیا جاتا ہے تاکہ ہوا جسم میں داخل نہ ہو۔ لاش کے پیروں کے تلوے، ہتھیلیوں کی جلد اور زبان کاٹ کر علیحدہ کرلی جاتی ہے اور یہ قریبی ترین عزیز کو پیش کردی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ جلائی جاتی ہے اور لاش کو اس کے اوپر دھویں میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ دھویں اور حرارت کے عمل سے لاش بھن جاتی ہے۔ اس کے بعد لاش کے اوپر چکنی مٹی اور گیرو کا لیپ کیا جاتا ہے اور اسے بلندی پر بانسوں کا گھونسلا بنا کر اس میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ سارے علاقے میں لاشیں گھونسلوں میں بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ لاشیں ان کی نگرانی کرتی ہیں اور انہیں بلاﺅں سے محفوظ رکھتی ہیں، موروب ہائی لینڈز کے علاقے میں کئی لاشیں 200 سال سے اپنی نسلوں کی نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)



