اتوار، 14 دسمبر، 2014
جمعرات، 4 دسمبر، 2014
A man discovered 179 yrs old in India, "Death has forgotten me" || My grand children are dead there for yrs. Somehow forgot me death " Mahashta Mûrasi is an Indian who claims to be born in 1835.
According to indian officials, the man was born at home in the city of Bangalore on January 6th 1835, and is recorded to have lived in Vârânasî since 1903. He worked as a cobbler in the city until 1957, when he retired at the already venerable age of 122.
“I have been alive so long, that my great grand-children have been dead for years” explains Mr Mûrasi. “Somehow death forgot about me… And now there’s hardly any hope left. Look at the statistics, nobody dies past 150, even less at 170. At that point, I guess I’m immortal or something. I might as well enjoy it!”
The man’s birth certificate and identity cards all seem to confirm his version, but unfortunately no medical examination can confirm his saying for now. The last doctor Mister Mûrasi visited died in 1971, so there is little information available about his previous medical files.
A man discovered 179 yrs old in India! He left hope to die
Posted on by blogger with No comments
A man discovered 179 yrs old in India, "Death has forgotten me" || My grand children are dead there for yrs. Somehow forgot me death " Mahashta Mûrasi is an Indian who claims to be born in 1835.
According to indian officials, the man was born at home in the city of Bangalore on January 6th 1835, and is recorded to have lived in Vârânasî since 1903. He worked as a cobbler in the city until 1957, when he retired at the already venerable age of 122.
“I have been alive so long, that my great grand-children have been dead for years” explains Mr Mûrasi. “Somehow death forgot about me… And now there’s hardly any hope left. Look at the statistics, nobody dies past 150, even less at 170. At that point, I guess I’m immortal or something. I might as well enjoy it!”
The man’s birth certificate and identity cards all seem to confirm his version, but unfortunately no medical examination can confirm his saying for now. The last doctor Mister Mûrasi visited died in 1971, so there is little information available about his previous medical files.
ہفتہ، 15 نومبر، 2014
دبئی (ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں بدھ سے ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹرام سروس کا آغاز ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے حادثات سے بچانے کیلئے 150 پولیس افسران اور 64 سپیڈ کیمروں کی مدد لی جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس نے شہر میں گاڑیاں چلانے والے افراد کو خبر دار کیا ہے کہ اگر شہر کی سڑکوں پر ٹرام کے راستے پر واقع 30 جنکشنوں میں سے کسی پر بھی وہ تصادم کا باعث بنے تو انہیں 30 ہزار درہم تک جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
دبئی: ٹرام سروس شروع، راستے میں آنے والے کو جرمانہ ہوگا
Posted on by blogger with No comments
دبئی (ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں بدھ سے ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹرام سروس کا آغاز ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے حادثات سے بچانے کیلئے 150 پولیس افسران اور 64 سپیڈ کیمروں کی مدد لی جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس نے شہر میں گاڑیاں چلانے والے افراد کو خبر دار کیا ہے کہ اگر شہر کی سڑکوں پر ٹرام کے راستے پر واقع 30 جنکشنوں میں سے کسی پر بھی وہ تصادم کا باعث بنے تو انہیں 30 ہزار درہم تک جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کو یہ جان کر یقینا خوشگوار حیرات ہو گی لاہور صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک لاہور ہے جو کہ عنقریب اپنی مشرقی خوبصورتی، روایات، کھانوں اور زندہ دلی کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔ امریکہ کا لاہور دارالحکومت واشنگٹن سے 75 میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ہے جس کی بنیاد 1850ءکی دہائی میں ایک امریکی جوڑے نے موجودہ پاکستانی لاہور کی جنگ آزادی کے حوالہ سے شہرت سے متاثر ہو کر رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نور نغمی نے پاکستانی لاہور کی محبت سے سرشار ہو کر 235 ایکڑ پر مشتمل امریکی لاہور کو 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید لیا ہے اور اب وہ اسے لاہوری ثقافت اور روایات کا مرکز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ امریکی لاہور میں شالامار باغ کی طرز کا ایک ضیافت خانہ، لائبریری، میوزیم اور پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ کھولے جائیں۔ انہوں نے امریکی لاہور کی عمارتوں کو پاکستانی لاہور کی شکل دینے کیلئے حیدر آباد کے ایک فلم سٹوڈیو سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ نور نغمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی لاہور میں پاکستانی لاہور کے انداز میں بھرپور طریقے سے رنگا رنگ بسنت بھی منائی جائے گی۔
Lahore in America
Posted on by blogger with No comments
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کو یہ جان کر یقینا خوشگوار حیرات ہو گی لاہور صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک لاہور ہے جو کہ عنقریب اپنی مشرقی خوبصورتی، روایات، کھانوں اور زندہ دلی کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔ امریکہ کا لاہور دارالحکومت واشنگٹن سے 75 میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ہے جس کی بنیاد 1850ءکی دہائی میں ایک امریکی جوڑے نے موجودہ پاکستانی لاہور کی جنگ آزادی کے حوالہ سے شہرت سے متاثر ہو کر رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نور نغمی نے پاکستانی لاہور کی محبت سے سرشار ہو کر 235 ایکڑ پر مشتمل امریکی لاہور کو 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید لیا ہے اور اب وہ اسے لاہوری ثقافت اور روایات کا مرکز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ امریکی لاہور میں شالامار باغ کی طرز کا ایک ضیافت خانہ، لائبریری، میوزیم اور پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ کھولے جائیں۔ انہوں نے امریکی لاہور کی عمارتوں کو پاکستانی لاہور کی شکل دینے کیلئے حیدر آباد کے ایک فلم سٹوڈیو سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ نور نغمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی لاہور میں پاکستانی لاہور کے انداز میں بھرپور طریقے سے رنگا رنگ بسنت بھی منائی جائے گی۔
ہفتہ، 18 اکتوبر، 2014
نیو یارک ( نیوز ڈیسک ) پاکستان جیسے غریب ممالک میں ہر سال لاکھوں خواتین کی ہلاکت دوران زچگی ہو جاتی ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ان خواتین کا مناسب خوراک سے محروم ہونے کی وجہ سے کمزوری اور بیماری کا شکار ہونا بھی ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
ماں بننے والی خواتین کی درد کم کرنے کا انتہائی آسان نسخہ
Posted on by blogger with No comments
نیو یارک ( نیوز ڈیسک ) پاکستان جیسے غریب ممالک میں ہر سال لاکھوں خواتین کی ہلاکت دوران زچگی ہو جاتی ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ان خواتین کا مناسب خوراک سے محروم ہونے کی وجہ سے کمزوری اور بیماری کا شکار ہونا بھی ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی معلوم کر لیا ہے کہ خوراک میں وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو درد زہ کی زیادہ شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جن خواتین میں وٹامن ڈی کی کمی نہیں ہوتی انہیں بوقت پیدائش کم درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ تحقیق امریکن سوسائٹی آف اینستھیسزیالوجسٹ کی سالانہ میٹنگ میں پیش کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین میں ڈپریشن اور دردوں کی عمومی شکایات بھی زیادہ پائی جاتی ہیں۔تحقیق میں شامل 93 حاملہ ماو¿ں میں سے وٹامن ڈی کی کمی کا شکار خواتین کو دوران زچگی درد کش ادویات کی ضرورت کہیں ذیادہ پیش آئی۔وٹامن ڈی دودھ ، جوس اور مچھلی کے تیل جیسی غذاو¿ں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
جمعرات، 24 جولائی، 2014
دودھ کا خالص پن جاننے کا طریقہ
23 جولائی 2014 (21:51)
نیودہلی (نیوزڈیسک ) خالص پن ایک روایتی اصطلاح ہے، جو برصغیر پاک و ہند میں اکثر کھانے پینے کی چیزوں کےلئے استعمال کی جاتی ہے، اور کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ یہاں ایک عام مشق بن چکی ہے۔ اشیائے خوردو نوش میں دودھ کو ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے، لیکن دودھ میں ملاوٹ اور پانی ملانے کی شکایات زبان زد عام اور یہ مکروہ دھندہ سرعام جاری ہے۔ گوالے خالص دودھ کا کہہ کر پانی ملا دودھ فروخت کر رہے ہیں، تو ایسے میں ہم آپ کو آلائشوں سے پاک دودھ کا معیار چیک کرنے کے گھریلو طریقے بتاتے ہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
How to Check Milk In Urdu
Posted on by blogger with No comments
دودھ کا خالص پن جاننے کا طریقہ
23 جولائی 2014 (21:51)
نیودہلی (نیوزڈیسک ) خالص پن ایک روایتی اصطلاح ہے، جو برصغیر پاک و ہند میں اکثر کھانے پینے کی چیزوں کےلئے استعمال کی جاتی ہے، اور کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ یہاں ایک عام مشق بن چکی ہے۔ اشیائے خوردو نوش میں دودھ کو ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے، لیکن دودھ میں ملاوٹ اور پانی ملانے کی شکایات زبان زد عام اور یہ مکروہ دھندہ سرعام جاری ہے۔ گوالے خالص دودھ کا کہہ کر پانی ملا دودھ فروخت کر رہے ہیں، تو ایسے میں ہم آپ کو آلائشوں سے پاک دودھ کا معیار چیک کرنے کے گھریلو طریقے بتاتے ہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
دودھ کا قطرہ: دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔
دودھ گرم کرنا: بازار یا گویے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے .
ٹیوب ٹیسٹ: اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین paraphenylene diamine نامی مادہ کے چند قطرے دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .
لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ 'جیلی ' کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔
ہفتہ، 12 جولائی، 2014
مُردوں کو بھوننے والا قبیلہ
11 جولائی 2014 (23:12)
پورٹ موریسبے (نیوز ڈیسک) بر اعظم آسٹریلیا کے دو رافتادہ ملک پاپوانیوگنی میں لوگ اپنے مردہ رشتہ داروں کے ساتھ جو بھیانک سلوک کرتے ہیں وہ شاید ہی آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہو۔ انگا قبیلے کے لوگ مرنے والے لوگوں کے جسم سے چربی نکال کر اس سے کھانے پکاتے ہیں اور لاشوں کو مصالحے لگانے کے بعد بھون کر نمایاں مقامات پر لٹکا دیتے ہیں۔ پاپوانیوگنی کے علاقے موروب میں جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے گھر والے اسے بھوننے کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ پہلے تجربہ کار لوگ لاش کے پاﺅں، گھٹنوں اور کہنیوں میں تیز دھار آلے سے چیر الگاتے ہیں تاکہ جس کی چربی ٹپک ٹپک کر باہر نکل آئے، اس چربی کو زندگی اور صحت بخشنے والی طاقت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور لوگ اسے جسم پر ملنے کے علاوہ اس میں کھانا پکا کر بھی کھاتے ہیں۔ چربی نکالنے کے بعد لاش کی آنکھوں، کانوں اور منہ سمیت جسم کے تمام سوراخوں کو سی دیا جاتا ہے تاکہ ہوا جسم میں داخل نہ ہو۔ لاش کے پیروں کے تلوے، ہتھیلیوں کی جلد اور زبان کاٹ کر علیحدہ کرلی جاتی ہے اور یہ قریبی ترین عزیز کو پیش کردی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ جلائی جاتی ہے اور لاش کو اس کے اوپر دھویں میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ دھویں اور حرارت کے عمل سے لاش بھن جاتی ہے۔ اس کے بعد لاش کے اوپر چکنی مٹی اور گیرو کا لیپ کیا جاتا ہے اور اسے بلندی پر بانسوں کا گھونسلا بنا کر اس میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ سارے علاقے میں لاشیں گھونسلوں میں بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ لاشیں ان کی نگرانی کرتی ہیں اور انہیں بلاﺅں سے محفوظ رکھتی ہیں، موروب ہائی لینڈز کے علاقے میں کئی لاشیں 200 سال سے اپنی نسلوں کی نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
مُردوں کو بھوننے والا قبیل
Posted on by blogger with No comments
مُردوں کو بھوننے والا قبیلہ
11 جولائی 2014 (23:12)
پورٹ موریسبے (نیوز ڈیسک) بر اعظم آسٹریلیا کے دو رافتادہ ملک پاپوانیوگنی میں لوگ اپنے مردہ رشتہ داروں کے ساتھ جو بھیانک سلوک کرتے ہیں وہ شاید ہی آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہو۔ انگا قبیلے کے لوگ مرنے والے لوگوں کے جسم سے چربی نکال کر اس سے کھانے پکاتے ہیں اور لاشوں کو مصالحے لگانے کے بعد بھون کر نمایاں مقامات پر لٹکا دیتے ہیں۔ پاپوانیوگنی کے علاقے موروب میں جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے گھر والے اسے بھوننے کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ پہلے تجربہ کار لوگ لاش کے پاﺅں، گھٹنوں اور کہنیوں میں تیز دھار آلے سے چیر الگاتے ہیں تاکہ جس کی چربی ٹپک ٹپک کر باہر نکل آئے، اس چربی کو زندگی اور صحت بخشنے والی طاقت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور لوگ اسے جسم پر ملنے کے علاوہ اس میں کھانا پکا کر بھی کھاتے ہیں۔ چربی نکالنے کے بعد لاش کی آنکھوں، کانوں اور منہ سمیت جسم کے تمام سوراخوں کو سی دیا جاتا ہے تاکہ ہوا جسم میں داخل نہ ہو۔ لاش کے پیروں کے تلوے، ہتھیلیوں کی جلد اور زبان کاٹ کر علیحدہ کرلی جاتی ہے اور یہ قریبی ترین عزیز کو پیش کردی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ جلائی جاتی ہے اور لاش کو اس کے اوپر دھویں میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ دھویں اور حرارت کے عمل سے لاش بھن جاتی ہے۔ اس کے بعد لاش کے اوپر چکنی مٹی اور گیرو کا لیپ کیا جاتا ہے اور اسے بلندی پر بانسوں کا گھونسلا بنا کر اس میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ سارے علاقے میں لاشیں گھونسلوں میں بیٹھی نظر آتی ہیں۔ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ لاشیں ان کی نگرانی کرتی ہیں اور انہیں بلاﺅں سے محفوظ رکھتی ہیں، موروب ہائی لینڈز کے علاقے میں کئی لاشیں 200 سال سے اپنی نسلوں کی نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔
جمعہ، 11 جولائی، 2014
آدھے سر کے درد کا آسان ترین اور موثر علاج
12 جولائی 2014 (00:31)
برمنگھم( نیوز ڈیسک) سر کے شدید درد مگرین کا شمار درد ناک ترین بیماریوں میں ہوتا ہے اور اس سے نجات کیلئے طرح طرح کی ادویات کے استعمال سے بھی فوری اور مکمل افاقہ نہیں ہوتا ۔ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس موذی درد سے نجات کیلئے بکثرت دستیاب سبزی بند گو بھی انتہائی مفید ہے ۔ان پتوں میں سنی گرن رپپن، مسٹرڈ آئل ، میگنیزیم ، آئس لیٹ اور سلفر ہیٹرو سائڈز پائے جاتے ہیں ۔ ان پتوں کے استعمال سے خون کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور درد کم ہو جاتا ہے ان پتوں کو سوجن کم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے بند گوبھی کا پھول لے کر باہر والے کچھ پتے اتار دیں اور اندر والے پتے لے کر اچھی طرح دھو لیں اور پھر انہیں کوٹ کر پیسٹ بنا لیں ۔اس پیسٹ کو ململ کے کپڑے پر پھیلا کر درد والی جگہ پر باندھ لیں جب تک کہ یہ پیسٹ خشک نہ ہو جائے اسے لگا رہنے دیں اور حسب ضرورت دوبارہ بھی لگائیں لیکن یاد رکھیں کہ درد جاری رہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے ضرور رابطہ کریں ۔
half head pain
Posted on by blogger with No comments
آدھے سر کے درد کا آسان ترین اور موثر علاج
12 جولائی 2014 (00:31)
برمنگھم( نیوز ڈیسک) سر کے شدید درد مگرین کا شمار درد ناک ترین بیماریوں میں ہوتا ہے اور اس سے نجات کیلئے طرح طرح کی ادویات کے استعمال سے بھی فوری اور مکمل افاقہ نہیں ہوتا ۔ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس موذی درد سے نجات کیلئے بکثرت دستیاب سبزی بند گو بھی انتہائی مفید ہے ۔ان پتوں میں سنی گرن رپپن، مسٹرڈ آئل ، میگنیزیم ، آئس لیٹ اور سلفر ہیٹرو سائڈز پائے جاتے ہیں ۔ ان پتوں کے استعمال سے خون کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور درد کم ہو جاتا ہے ان پتوں کو سوجن کم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے بند گوبھی کا پھول لے کر باہر والے کچھ پتے اتار دیں اور اندر والے پتے لے کر اچھی طرح دھو لیں اور پھر انہیں کوٹ کر پیسٹ بنا لیں ۔اس پیسٹ کو ململ کے کپڑے پر پھیلا کر درد والی جگہ پر باندھ لیں جب تک کہ یہ پیسٹ خشک نہ ہو جائے اسے لگا رہنے دیں اور حسب ضرورت دوبارہ بھی لگائیں لیکن یاد رکھیں کہ درد جاری رہنے کی صورت میں ڈاکٹر سے ضرور رابطہ کریں ۔
Internet sa Earning Karein Bina Kisi Registration Fees Kai.
Hello Friends, Aap Logo Kai Liye Urdu Main Mai ne Apna Article Likha Hai Jis Ko Read Kar Kai Aap Online Paise Earn Kar Sakte Hein Wo Bi Sirf clicking Kar Kai. Aap Ko 50 Email Ids Ki Zaroorat Nahi Balkay Aap Ko 50 Friends Ki Zaroorat Hai Jo Aap Kai Referral Link Per Bi Clicking Kar Sakte Ho.Yeh Clicking Wala Kam Aik Website Per Hai Jis Ka Link Mai Step By Step Doonga. Aap Ko Bus Aik Computer, ya android Phone, ya Laptop ki Zaroorat hai Jis Per Aap Kai Pass Internet Available Ho. Aap Step Check Karein Aur Work Aaj Sa he Start Kar Dein. 10 Thousand Rupees Tak Earning Kar Sakte Hein Aap.
Step No.1 :
gmail, yahoo, hotmail ya mail.com per aap aik email banaein.
step no.2 :
Aap payza.com per personal Account Banaein.. Account Type Personal Hona Lazmi Hai.
payza ka tariqa images main dhekhein. payza aik bank account hai jis main free main account bannta hai aur pakistan main bohat saray log support karte hein. aager koi masla ho to aap humein he sell kar daina.

Step No.3 : Aap Is Link Per Sign Up Hojaein
link >>> Neobux.com
Referral Ki Jagha Aap Ko Faryalkhanlpg type karna hai
Click Kar Kai Paise Earn Karein Internet Sai
Posted on by blogger with No comments
Internet sa Earning Karein Bina Kisi Registration Fees Kai.
Hello Friends, Aap Logo Kai Liye Urdu Main Mai ne Apna Article Likha Hai Jis Ko Read Kar Kai Aap Online Paise Earn Kar Sakte Hein Wo Bi Sirf clicking Kar Kai. Aap Ko 50 Email Ids Ki Zaroorat Nahi Balkay Aap Ko 50 Friends Ki Zaroorat Hai Jo Aap Kai Referral Link Per Bi Clicking Kar Sakte Ho.Yeh Clicking Wala Kam Aik Website Per Hai Jis Ka Link Mai Step By Step Doonga. Aap Ko Bus Aik Computer, ya android Phone, ya Laptop ki Zaroorat hai Jis Per Aap Kai Pass Internet Available Ho. Aap Step Check Karein Aur Work Aaj Sa he Start Kar Dein. 10 Thousand Rupees Tak Earning Kar Sakte Hein Aap.
Step No.1 :
gmail, yahoo, hotmail ya mail.com per aap aik email banaein.
step no.2 :
Aap payza.com per personal Account Banaein.. Account Type Personal Hona Lazmi Hai.
payza ka tariqa images main dhekhein. payza aik bank account hai jis main free main account bannta hai aur pakistan main bohat saray log support karte hein. aager koi masla ho to aap humein he sell kar daina.

Step No.3 : Aap Is Link Per Sign Up Hojaein
link >>> Neobux.com
Referral Ki Jagha Aap Ko Faryalkhanlpg type karna hai
جمعرات، 10 جولائی، 2014
چاند اور نیند کا گہرا تعلق، سائنس نے بتا دیا
10 جولائی 2014 (21:39)
برلن (نیوز ڈیسک) چودھویں کے چاند کے انسانی ذہن پر اثرات کے بارے میں زمانہ قدیم سے کئی کہانیاں مشہور ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ یہ محض کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ان میں سچائی بھی ہے۔ یونیورسٹی آف گوتھنبرگ کے سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ پورے چاند کی رات میں ہماری نیند معمول سے کم ہوجاتی ہے اور بعض لوگوں کیلئے تو سونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس تحقیق کیلئے مردوں اور عورتوں کو چاند کی چودھویں تاریخ کے قریب ایسے تاریک کمروں میں سلایا گیا جن میں روشنی کہیں سے بھی داخل نہیں ہوسکتی تھی۔
اگرچہ ان کمروں میں سونے والوں تک چاند کی روشنی بالکل نہیں پہنچ رہی تھی پھر بھی ان کی نیند چاند سے واضح طور پر متاثر ہوئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چودھویں کا چاند عورتوں کی نسبت مردوں کو دوگنا متاثر کرتا ہے۔ تجربے میں شامل مرد پورے چاند کی راتوں میں معمول سے تقریباً 50 منٹ کم سو پائے جبکہ عورتیں معمول سے تقریباً 25 منٹ کم سوپائیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس روہے کی وجہ ہمارے حیاتیاتی ارتقاءمیں ہوسکتی ہے۔ چونکہ زمانہ قدیم میں انسان چاندنی رات کا استعمال شکار کرنے اور درندوں سے بچنے کیلئے کرتا تھا اس لئے یہ بات ہماری فطرت میں شامل ہوگئی ہے کہ ہم پورے چاند کی راتوں میں جاگتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تحقیق ”کرنٹ بیالوجی“ نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
اگرچہ ان کمروں میں سونے والوں تک چاند کی روشنی بالکل نہیں پہنچ رہی تھی پھر بھی ان کی نیند چاند سے واضح طور پر متاثر ہوئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چودھویں کا چاند عورتوں کی نسبت مردوں کو دوگنا متاثر کرتا ہے۔ تجربے میں شامل مرد پورے چاند کی راتوں میں معمول سے تقریباً 50 منٹ کم سو پائے جبکہ عورتیں معمول سے تقریباً 25 منٹ کم سوپائیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس روہے کی وجہ ہمارے حیاتیاتی ارتقاءمیں ہوسکتی ہے۔ چونکہ زمانہ قدیم میں انسان چاندنی رات کا استعمال شکار کرنے اور درندوں سے بچنے کیلئے کرتا تھا اس لئے یہ بات ہماری فطرت میں شامل ہوگئی ہے کہ ہم پورے چاند کی راتوں میں جاگتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تحقیق ”کرنٹ بیالوجی“ نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
post chand
Posted on by blogger with No comments
چاند اور نیند کا گہرا تعلق، سائنس نے بتا دیا
10 جولائی 2014 (21:39)
برلن (نیوز ڈیسک) چودھویں کے چاند کے انسانی ذہن پر اثرات کے بارے میں زمانہ قدیم سے کئی کہانیاں مشہور ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ یہ محض کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ان میں سچائی بھی ہے۔ یونیورسٹی آف گوتھنبرگ کے سائنسدانوں نے معلوم کیا کہ پورے چاند کی رات میں ہماری نیند معمول سے کم ہوجاتی ہے اور بعض لوگوں کیلئے تو سونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس تحقیق کیلئے مردوں اور عورتوں کو چاند کی چودھویں تاریخ کے قریب ایسے تاریک کمروں میں سلایا گیا جن میں روشنی کہیں سے بھی داخل نہیں ہوسکتی تھی۔
اگرچہ ان کمروں میں سونے والوں تک چاند کی روشنی بالکل نہیں پہنچ رہی تھی پھر بھی ان کی نیند چاند سے واضح طور پر متاثر ہوئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چودھویں کا چاند عورتوں کی نسبت مردوں کو دوگنا متاثر کرتا ہے۔ تجربے میں شامل مرد پورے چاند کی راتوں میں معمول سے تقریباً 50 منٹ کم سو پائے جبکہ عورتیں معمول سے تقریباً 25 منٹ کم سوپائیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس روہے کی وجہ ہمارے حیاتیاتی ارتقاءمیں ہوسکتی ہے۔ چونکہ زمانہ قدیم میں انسان چاندنی رات کا استعمال شکار کرنے اور درندوں سے بچنے کیلئے کرتا تھا اس لئے یہ بات ہماری فطرت میں شامل ہوگئی ہے کہ ہم پورے چاند کی راتوں میں جاگتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تحقیق ”کرنٹ بیالوجی“ نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
اگرچہ ان کمروں میں سونے والوں تک چاند کی روشنی بالکل نہیں پہنچ رہی تھی پھر بھی ان کی نیند چاند سے واضح طور پر متاثر ہوئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چودھویں کا چاند عورتوں کی نسبت مردوں کو دوگنا متاثر کرتا ہے۔ تجربے میں شامل مرد پورے چاند کی راتوں میں معمول سے تقریباً 50 منٹ کم سو پائے جبکہ عورتیں معمول سے تقریباً 25 منٹ کم سوپائیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس روہے کی وجہ ہمارے حیاتیاتی ارتقاءمیں ہوسکتی ہے۔ چونکہ زمانہ قدیم میں انسان چاندنی رات کا استعمال شکار کرنے اور درندوں سے بچنے کیلئے کرتا تھا اس لئے یہ بات ہماری فطرت میں شامل ہوگئی ہے کہ ہم پورے چاند کی راتوں میں جاگتے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تحقیق ”کرنٹ بیالوجی“ نامی جریدے میں شائع کی گئی ہے۔
بدھ، 9 جولائی، 2014
سلمان خان نے لاکھوں مداحوں کو مایوس کر دیا
08 جولائی 2014 (22:34)
نیوز دہلی (نیوز ڈیسک) بالی وڈ کے مشہور ہیرو سلمان خان نے فیس بک اور ٹوئٹر کو فضول اور بکواس قرار دیتے ہوئے ان ویب سائٹوں کو استعمال کرنے والوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کرنے کو اور کوئی کام نہیں ہے کہ وہ ہر وقت ان گھٹیا ویب سائٹوں سے چمٹے رہتے ہیں۔ سلمان خان اپنی فلم” کک“ کی تعارفی تقریب میں گفتگو کر رہے تھے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اس فلم کی مشہوری کیلئے ٹوئٹر اور فیس بک کو استعمال کر رہے ہیں تو فلمسٹار نے ان ویب سائٹوں کے بارے میں اپنے جذبات کا بلا جھجک اظہار کر دیا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ لوگ کیسے اپنا قیمتی وقت ایک بے مقصد اور بے فائدہ مشغلے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جب کبھی بور ہوتے ہیں تو فیس بک یا ٹیوٹراستعمال کر لیتے ہیں لیکن یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ لوگ دھڑا دھڑ ان کی باتوں پر تبصرے شروع کر دیتے ہیں ۔سلمان کے فیس بک اور ٹوئٹر پر مجموعی طور پر تقریباََساڑھے تین کروڑ مداح ہیں لیکن انہوںنے مداحوں کو نصیحت کی ہے کہ اس بکواس کام کی بجائے اپنا وقت کسی ڈھنگ کے کام میں لگائیں۔
Urdu News Latest Salman Khan
Posted on by blogger with No comments
سلمان خان نے لاکھوں مداحوں کو مایوس کر دیا
08 جولائی 2014 (22:34)
نیوز دہلی (نیوز ڈیسک) بالی وڈ کے مشہور ہیرو سلمان خان نے فیس بک اور ٹوئٹر کو فضول اور بکواس قرار دیتے ہوئے ان ویب سائٹوں کو استعمال کرنے والوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کرنے کو اور کوئی کام نہیں ہے کہ وہ ہر وقت ان گھٹیا ویب سائٹوں سے چمٹے رہتے ہیں۔ سلمان خان اپنی فلم” کک“ کی تعارفی تقریب میں گفتگو کر رہے تھے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اس فلم کی مشہوری کیلئے ٹوئٹر اور فیس بک کو استعمال کر رہے ہیں تو فلمسٹار نے ان ویب سائٹوں کے بارے میں اپنے جذبات کا بلا جھجک اظہار کر دیا۔ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ لوگ کیسے اپنا قیمتی وقت ایک بے مقصد اور بے فائدہ مشغلے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جب کبھی بور ہوتے ہیں تو فیس بک یا ٹیوٹراستعمال کر لیتے ہیں لیکن یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ لوگ دھڑا دھڑ ان کی باتوں پر تبصرے شروع کر دیتے ہیں ۔سلمان کے فیس بک اور ٹوئٹر پر مجموعی طور پر تقریباََساڑھے تین کروڑ مداح ہیں لیکن انہوںنے مداحوں کو نصیحت کی ہے کہ اس بکواس کام کی بجائے اپنا وقت کسی ڈھنگ کے کام میں لگائیں۔
طالبان کے اکثر رہنما کرکٹ ، آفریدی کے مداح نکلے
08 جولائی 2014 (19:50)
اسلام آباد (ویب ڈیسک) کالعدم تحریک طالبان کے اکثر رہنماﺅں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ کرکٹ کے شوقین اور شاہد آفریدی کے بڑے مداح تھے۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے دوران معلوم ہوا ہے کہ طالبان پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو اپنی ٹیم سمجھتے تھے اور شاہد آفریدی کو طالبان اپنا ہیرو مانتے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں تباہ کئے گئے طالبان کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد ہونے کے علاوہ کرکٹ کے بلے اور گیندیں ملی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کرکٹ کے شوقین تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ زمینی آپریشن کے دوران شاہد آفریدی کے پوسٹربھی ملے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کاکہناتھاکہ طالبان پاکستان کا میچ باقاعدگی سے دیکھتے تھے۔
طالبان کے اکثر رہنما کرکٹ ، آفریدی کے مداح نکلے
Posted on by blogger with No comments
طالبان کے اکثر رہنما کرکٹ ، آفریدی کے مداح نکلے
08 جولائی 2014 (19:50)
اسلام آباد (ویب ڈیسک) کالعدم تحریک طالبان کے اکثر رہنماﺅں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ کرکٹ کے شوقین اور شاہد آفریدی کے بڑے مداح تھے۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے دوران معلوم ہوا ہے کہ طالبان پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو اپنی ٹیم سمجھتے تھے اور شاہد آفریدی کو طالبان اپنا ہیرو مانتے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں تباہ کئے گئے طالبان کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں بارودی مواد برآمد ہونے کے علاوہ کرکٹ کے بلے اور گیندیں ملی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان کرکٹ کے شوقین تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ زمینی آپریشن کے دوران شاہد آفریدی کے پوسٹربھی ملے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کاکہناتھاکہ طالبان پاکستان کا میچ باقاعدگی سے دیکھتے تھے۔
8 بچوں بعد میاں بیوی بہن بھائی قرار
08 جولائی 2014 (20:30)
جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں 8بچوں کے والدین جوڑے کے بارے میں دعویٰ سامنے آگیا ہے کہ ان کی رضائی ماں (بچپن میں دودھ پلانے والی عورت) ایک ہی ہے جس کے ثابت ہونے پر ان کی شادی ختم ہو جائے گی۔یہ دعویٰ ایک 80سالہ خاتون نے نجران کی ایک عدالت میں کیا ہے لیکن چونکہ یہ گواہی ایک خاتون کی طرف سے سامنے آئی اس لئے ابھی یہ واضح نہیں کہ شادی ختم ہونے کا کتنا امکان ہے ۔مختلف فقہ کے مطابق عورت کی گواہی کے ساتھ مرد کی گواہی یا ایک سے زائد عورتوں کی گواہی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ دودھ پلانے والی عورت اگر خود گواہی دے تو اس صورت میں مزید کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ یادرہے کہ پچھلے ماہ مدینہ کے قریب واقع قصبے الراس میں بھی ایک عدالت نے 25سال سے شادی شدہ جوڑے کو اسی بناءپر علیحدگی کا حکم دےد یا تھا
Surprising News In Urdu about Marriage
Posted on by blogger with No comments
8 بچوں بعد میاں بیوی بہن بھائی قرار
08 جولائی 2014 (20:30)
جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں 8بچوں کے والدین جوڑے کے بارے میں دعویٰ سامنے آگیا ہے کہ ان کی رضائی ماں (بچپن میں دودھ پلانے والی عورت) ایک ہی ہے جس کے ثابت ہونے پر ان کی شادی ختم ہو جائے گی۔یہ دعویٰ ایک 80سالہ خاتون نے نجران کی ایک عدالت میں کیا ہے لیکن چونکہ یہ گواہی ایک خاتون کی طرف سے سامنے آئی اس لئے ابھی یہ واضح نہیں کہ شادی ختم ہونے کا کتنا امکان ہے ۔مختلف فقہ کے مطابق عورت کی گواہی کے ساتھ مرد کی گواہی یا ایک سے زائد عورتوں کی گواہی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ دودھ پلانے والی عورت اگر خود گواہی دے تو اس صورت میں مزید کسی گواہ کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ یادرہے کہ پچھلے ماہ مدینہ کے قریب واقع قصبے الراس میں بھی ایک عدالت نے 25سال سے شادی شدہ جوڑے کو اسی بناءپر علیحدگی کا حکم دےد یا تھا
پیر، 7 جولائی، 2014
خواتین کن مردوں کو پسند کرتی ہیں؟ سائنسی تحقیق نے بتا دیا
07 جولائی 2014 (11:56)
لندن (نیوز ڈیسک) بدلتے زمانے کے ساتھ عورتوں کی پسند ناپسند بھی تبدیل ہورہی ہے اور آج کی جدید عورت کو جو مرد پسند ہیں اُن میں روایتی رومانویت اور وضع داری کے ساتھ کچھ نئی خوبیوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ 'سرینتا فلاورز ' نامی کمپنی کی ایک حالیہ تحقیق میں 60 فیصد عورتوں نے شکوہ کیا کہ آج کل کے مرد ان کے معیار پر پورے نہیں اتر پارہے، اس لئے آپ کیلئے بہت ضروری ہے کہ آپ یہ جانیں کہ عورتوں کو کیسے مرد پسند ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ وہ ایسے مردوں کو پسند کریں گی جو قطار میں انتظار کے دوران انہیں اپنی جگے دے کر خود پیچھے آجائیں، فیس بک پر اُن کی تصویروں کی تعریف کریں، اچھے موسم میں رومانویت کا اظہار ضرور کریں اور جب بھی خواتین نئے کپڑے پہنیں یا بالوں کا نیا سٹائل بنائیں تو اس کی تعریف کرنا نہ بھولیں۔ خواتین کی بھاری تعداد نے کہا کہ عزت سے پیش آنے والے مرد تو انہیں فوری طور پر دلکش لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ نوجوان عورتوں اور لڑکیوں نے کہا کہ وہ اس بات کو بہت پسند کریں گی کہ اُن کے فون کی بیٹری ختم ہونے پر مرد انہیں فوراً اپنا فون پیش کریں اور اگر انہیں گھر پہنچنا ہو تو اس کیلئے ٹیکسی کا بندوبست کریں۔ اسی طرح خواتین کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں کسی مسئلے کی صورت میں مدد فراہم کرنے والے، بھاری سامان اٹھانے میں مدد کرنے والے، ٹی وی پر قبضہ کرنے کی بجائے اپنے لیپ ٹاپ پر میچ دیکھنے والے، کھانا پکانے میں مدد کی پیشکش کرنے والے اور اکٹھے چپس کھاتے ہوئے آخری چپس خود کھانے کی بجائے اپنی خاتون ساتھی کو پیش کرنے والے مردوں کو بہت پسندیدہ قرار دیا گیا۔
raaz Pata Karein Pasand Na Pasand Ka
Posted on by blogger with No comments
خواتین کن مردوں کو پسند کرتی ہیں؟ سائنسی تحقیق نے بتا دیا
07 جولائی 2014 (11:56)
لندن (نیوز ڈیسک) بدلتے زمانے کے ساتھ عورتوں کی پسند ناپسند بھی تبدیل ہورہی ہے اور آج کی جدید عورت کو جو مرد پسند ہیں اُن میں روایتی رومانویت اور وضع داری کے ساتھ کچھ نئی خوبیوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ 'سرینتا فلاورز ' نامی کمپنی کی ایک حالیہ تحقیق میں 60 فیصد عورتوں نے شکوہ کیا کہ آج کل کے مرد ان کے معیار پر پورے نہیں اتر پارہے، اس لئے آپ کیلئے بہت ضروری ہے کہ آپ یہ جانیں کہ عورتوں کو کیسے مرد پسند ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بتایا کہ وہ ایسے مردوں کو پسند کریں گی جو قطار میں انتظار کے دوران انہیں اپنی جگے دے کر خود پیچھے آجائیں، فیس بک پر اُن کی تصویروں کی تعریف کریں، اچھے موسم میں رومانویت کا اظہار ضرور کریں اور جب بھی خواتین نئے کپڑے پہنیں یا بالوں کا نیا سٹائل بنائیں تو اس کی تعریف کرنا نہ بھولیں۔ خواتین کی بھاری تعداد نے کہا کہ عزت سے پیش آنے والے مرد تو انہیں فوری طور پر دلکش لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ نوجوان عورتوں اور لڑکیوں نے کہا کہ وہ اس بات کو بہت پسند کریں گی کہ اُن کے فون کی بیٹری ختم ہونے پر مرد انہیں فوراً اپنا فون پیش کریں اور اگر انہیں گھر پہنچنا ہو تو اس کیلئے ٹیکسی کا بندوبست کریں۔ اسی طرح خواتین کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں کسی مسئلے کی صورت میں مدد فراہم کرنے والے، بھاری سامان اٹھانے میں مدد کرنے والے، ٹی وی پر قبضہ کرنے کی بجائے اپنے لیپ ٹاپ پر میچ دیکھنے والے، کھانا پکانے میں مدد کی پیشکش کرنے والے اور اکٹھے چپس کھاتے ہوئے آخری چپس خود کھانے کی بجائے اپنی خاتون ساتھی کو پیش کرنے والے مردوں کو بہت پسندیدہ قرار دیا گیا۔
جسم کو پرکشش بنانے والے کھانے
07 جولائی 2014 (14:59)
لندن (نیوز ڈیسک) جسمانی صحت و تندرستی میں پٹھوں کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے، لہذا پٹھوں کو خوبصورت شکل دینے کے لئے انھیں خصوصی اہمیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ہم آپ کو اُن نیوٹرینٹس (مقوی غذائیں) کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں، جن کے استعمال سے پٹھوںکو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور نتیجتاً عمومی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
وٹامن سی: امریکی ماہر طب ڈاکٹر جان کومو کہتے ہیں کہ تقریباً تمام پھلوں اور سبزیوں میں پایا جانے والا وٹامن سی خون کی نالیوں کی صحت کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو پٹھوں کو آکسیجن فراہم کرکے مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا ایک روز میں تقریباً 75گرام وٹامن سی کا حصول ضروری ہے، جو ایک درمیانے سائز کے مالٹے، آدھی شملہ مرچ یا سٹرابری کے ایک کپ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مچھلی کا تیل: ڈاکٹر کومو کے مطابق پٹھوں میں خون کی گردش کو بڑھانے اور پروٹین کی کمی کو فوری پورا کرنے کے لئے ہمیں اومیگا تھری کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اومیگا تھری مچھلی کے تیل میں پایا جاتا ہے، جو پٹھوںکی مضبوطی کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔ اومیگا تھری انسولین کی حساسیت کو بڑھا کر ذیابیطس سے بچاﺅ میں بھی معاون ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجویز کے مطابق ہفتے میں دوبار مچھلی کا ضرور استعمال کریں۔
کیلشیم: کیلیشم ہمارے جسم کے لئے اہم ترین نیوٹرینٹ ہے، کیوں کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے جسم کی ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ ماہر طب ڈاکٹر پوپووٹز کے مطابق ایک شخص کے لئے روزانہ مختلف سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے 12سو ملی گرام کیلشیم کا حصول ضروری ہے۔
میگنیشیم: گوکہ جسم میں میگنیشیم کی کمی بہت کم ہوتی ہے لیکن ایسا ہونے کی صورت میں پٹھوں میں اکڑاﺅ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہذا دی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق روزانہ 310سے320ملی گرام میگنیشیم ضرور حاصل کریں۔
بی وٹامن: وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس، بی سیون اور بی 12 مجموعی صحت کے لئے لازمی ہےں لیکن ان کی اہمیت اس صورت میں مزید بڑھ جاتی ہے، جب آپ کا مقصود پٹھوں کی نشوونما اور مضبوطی ہو۔ ڈاکٹر کومو کا کہنا ہے کہ بی وٹامن میٹابولزم اور توانائی کے حصول سمیت مجموعی طور پر ہماری صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ بی وٹامن کی روزانہ ہمیشہ مناسب مقدار لیں۔
بی وٹامن کے علاوہ وٹامن ڈی اور وٹامن ای میں شامل اجزا نہ صرف ہڈیوں بلکہ پٹھوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ لہذا وٹامن ڈی کی روزانہ مناسب مقدار کے ساتھ 15ملی گرام وٹامن ای کا حصول ضروری ہے۔
وٹامن سی: امریکی ماہر طب ڈاکٹر جان کومو کہتے ہیں کہ تقریباً تمام پھلوں اور سبزیوں میں پایا جانے والا وٹامن سی خون کی نالیوں کی صحت کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو پٹھوں کو آکسیجن فراہم کرکے مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا ایک روز میں تقریباً 75گرام وٹامن سی کا حصول ضروری ہے، جو ایک درمیانے سائز کے مالٹے، آدھی شملہ مرچ یا سٹرابری کے ایک کپ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مچھلی کا تیل: ڈاکٹر کومو کے مطابق پٹھوں میں خون کی گردش کو بڑھانے اور پروٹین کی کمی کو فوری پورا کرنے کے لئے ہمیں اومیگا تھری کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اومیگا تھری مچھلی کے تیل میں پایا جاتا ہے، جو پٹھوںکی مضبوطی کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔ اومیگا تھری انسولین کی حساسیت کو بڑھا کر ذیابیطس سے بچاﺅ میں بھی معاون ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجویز کے مطابق ہفتے میں دوبار مچھلی کا ضرور استعمال کریں۔
کیلشیم: کیلیشم ہمارے جسم کے لئے اہم ترین نیوٹرینٹ ہے، کیوں کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے جسم کی ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ ماہر طب ڈاکٹر پوپووٹز کے مطابق ایک شخص کے لئے روزانہ مختلف سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے 12سو ملی گرام کیلشیم کا حصول ضروری ہے۔
میگنیشیم: گوکہ جسم میں میگنیشیم کی کمی بہت کم ہوتی ہے لیکن ایسا ہونے کی صورت میں پٹھوں میں اکڑاﺅ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہذا دی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق روزانہ 310سے320ملی گرام میگنیشیم ضرور حاصل کریں۔
بی وٹامن: وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس، بی سیون اور بی 12 مجموعی صحت کے لئے لازمی ہےں لیکن ان کی اہمیت اس صورت میں مزید بڑھ جاتی ہے، جب آپ کا مقصود پٹھوں کی نشوونما اور مضبوطی ہو۔ ڈاکٹر کومو کا کہنا ہے کہ بی وٹامن میٹابولزم اور توانائی کے حصول سمیت مجموعی طور پر ہماری صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ بی وٹامن کی روزانہ ہمیشہ مناسب مقدار لیں۔
بی وٹامن کے علاوہ وٹامن ڈی اور وٹامن ای میں شامل اجزا نہ صرف ہڈیوں بلکہ پٹھوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ لہذا وٹامن ڈی کی روزانہ مناسب مقدار کے ساتھ 15ملی گرام وٹامن ای کا حصول ضروری ہے۔
Healthy And Wealthy And Beauty Tips and Diet 2014
Posted on by blogger with No comments
جسم کو پرکشش بنانے والے کھانے
07 جولائی 2014 (14:59)
لندن (نیوز ڈیسک) جسمانی صحت و تندرستی میں پٹھوں کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے، لہذا پٹھوں کو خوبصورت شکل دینے کے لئے انھیں خصوصی اہمیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ہم آپ کو اُن نیوٹرینٹس (مقوی غذائیں) کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں، جن کے استعمال سے پٹھوںکو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور نتیجتاً عمومی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
وٹامن سی: امریکی ماہر طب ڈاکٹر جان کومو کہتے ہیں کہ تقریباً تمام پھلوں اور سبزیوں میں پایا جانے والا وٹامن سی خون کی نالیوں کی صحت کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو پٹھوں کو آکسیجن فراہم کرکے مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا ایک روز میں تقریباً 75گرام وٹامن سی کا حصول ضروری ہے، جو ایک درمیانے سائز کے مالٹے، آدھی شملہ مرچ یا سٹرابری کے ایک کپ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مچھلی کا تیل: ڈاکٹر کومو کے مطابق پٹھوں میں خون کی گردش کو بڑھانے اور پروٹین کی کمی کو فوری پورا کرنے کے لئے ہمیں اومیگا تھری کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اومیگا تھری مچھلی کے تیل میں پایا جاتا ہے، جو پٹھوںکی مضبوطی کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔ اومیگا تھری انسولین کی حساسیت کو بڑھا کر ذیابیطس سے بچاﺅ میں بھی معاون ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجویز کے مطابق ہفتے میں دوبار مچھلی کا ضرور استعمال کریں۔
کیلشیم: کیلیشم ہمارے جسم کے لئے اہم ترین نیوٹرینٹ ہے، کیوں کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے جسم کی ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ ماہر طب ڈاکٹر پوپووٹز کے مطابق ایک شخص کے لئے روزانہ مختلف سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے 12سو ملی گرام کیلشیم کا حصول ضروری ہے۔
میگنیشیم: گوکہ جسم میں میگنیشیم کی کمی بہت کم ہوتی ہے لیکن ایسا ہونے کی صورت میں پٹھوں میں اکڑاﺅ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہذا دی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق روزانہ 310سے320ملی گرام میگنیشیم ضرور حاصل کریں۔
بی وٹامن: وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس، بی سیون اور بی 12 مجموعی صحت کے لئے لازمی ہےں لیکن ان کی اہمیت اس صورت میں مزید بڑھ جاتی ہے، جب آپ کا مقصود پٹھوں کی نشوونما اور مضبوطی ہو۔ ڈاکٹر کومو کا کہنا ہے کہ بی وٹامن میٹابولزم اور توانائی کے حصول سمیت مجموعی طور پر ہماری صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ بی وٹامن کی روزانہ ہمیشہ مناسب مقدار لیں۔
بی وٹامن کے علاوہ وٹامن ڈی اور وٹامن ای میں شامل اجزا نہ صرف ہڈیوں بلکہ پٹھوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ لہذا وٹامن ڈی کی روزانہ مناسب مقدار کے ساتھ 15ملی گرام وٹامن ای کا حصول ضروری ہے۔
وٹامن سی: امریکی ماہر طب ڈاکٹر جان کومو کہتے ہیں کہ تقریباً تمام پھلوں اور سبزیوں میں پایا جانے والا وٹامن سی خون کی نالیوں کی صحت کا ذمہ دار ہوتا ہے، جو پٹھوں کو آکسیجن فراہم کرکے مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا ایک روز میں تقریباً 75گرام وٹامن سی کا حصول ضروری ہے، جو ایک درمیانے سائز کے مالٹے، آدھی شملہ مرچ یا سٹرابری کے ایک کپ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مچھلی کا تیل: ڈاکٹر کومو کے مطابق پٹھوں میں خون کی گردش کو بڑھانے اور پروٹین کی کمی کو فوری پورا کرنے کے لئے ہمیں اومیگا تھری کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اومیگا تھری مچھلی کے تیل میں پایا جاتا ہے، جو پٹھوںکی مضبوطی کے لئے نہایت مفید سمجھا جاتا ہے۔ اومیگا تھری انسولین کی حساسیت کو بڑھا کر ذیابیطس سے بچاﺅ میں بھی معاون ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تجویز کے مطابق ہفتے میں دوبار مچھلی کا ضرور استعمال کریں۔
کیلشیم: کیلیشم ہمارے جسم کے لئے اہم ترین نیوٹرینٹ ہے، کیوں کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے جسم کی ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ ماہر طب ڈاکٹر پوپووٹز کے مطابق ایک شخص کے لئے روزانہ مختلف سبزیوں اور پھلوں کے ذریعے 12سو ملی گرام کیلشیم کا حصول ضروری ہے۔
میگنیشیم: گوکہ جسم میں میگنیشیم کی کمی بہت کم ہوتی ہے لیکن ایسا ہونے کی صورت میں پٹھوں میں اکڑاﺅ پیدا ہو جاتا ہے۔ لہذا دی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق روزانہ 310سے320ملی گرام میگنیشیم ضرور حاصل کریں۔
بی وٹامن: وٹامن بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی سکس، بی سیون اور بی 12 مجموعی صحت کے لئے لازمی ہےں لیکن ان کی اہمیت اس صورت میں مزید بڑھ جاتی ہے، جب آپ کا مقصود پٹھوں کی نشوونما اور مضبوطی ہو۔ ڈاکٹر کومو کا کہنا ہے کہ بی وٹامن میٹابولزم اور توانائی کے حصول سمیت مجموعی طور پر ہماری صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ بی وٹامن کی روزانہ ہمیشہ مناسب مقدار لیں۔
بی وٹامن کے علاوہ وٹامن ڈی اور وٹامن ای میں شامل اجزا نہ صرف ہڈیوں بلکہ پٹھوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ لہذا وٹامن ڈی کی روزانہ مناسب مقدار کے ساتھ 15ملی گرام وٹامن ای کا حصول ضروری ہے۔
جمعہ، 4 جولائی، 2014
فٹ بال ورلڈکپ : الجرائز کی ٹیم کا انعامی رقم اہل غزہ کو عطیہ کرنے کااعلان
04 جولائی 2014 (19:42)
ریوڈی جنیرو(مانیٹرنگ ڈیسک) فٹ بال کے ورلڈکپ میں شریک الجزائر کی ٹیم نے انعام میں ملنے والی رقم کو اسرائیلی فوج کے ظلم و ستم کا شکار اہل غزہ کو عطیہ کرنے کا اعلان کردیا۔عالمی کپ ٹورنا منٹ کے پہلے مرحلے میں روس کے خلاف میچ میں گول سکور کرکے ٹیم کو فتح دلانے والے الجزائر کے کھلاڑی اسلام سلیمانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے محصور فلسطینی ہم سے زیادہ اس بونس رقم کے حق دار ہیں۔ یہ رقم قریبا 0 9 لاکھ ڈالر بنتی ہے .
واضح رہے کہ الجزائر واحد عرب ملک ہے جس کی ٹیم نے برازیل میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا اور وہ پہلی مرتبہ ناک آو¿ٹ مرحلے میں پہنچی تھی۔الجزائری ٹیم کو جرمنی کے خلاف اہم میچ میں اضافی وقت میں ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دوچار ہونا پڑا تھا اور شکست کے باوجود بہت سے مبصرین نے الجزائری کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور ان کا کہنا ہے کہ الجزائری ٹیم نے مقررہ وقت میں جرمن ٹیم کا سخت مقابلہ کیا تھا حالانکہ بہت سے الجزائری کھلاڑی روزے سے تھے۔اپنے ملک وطن واپس پہنچنے پر الجرائری ٹیم کے کھلاڑیوں کا شانداراستقبال کیاگیااور ٹیم کو ہوائی اڈے سے سبز اور سفید رنگ سے پینٹ کی گئی ایک بس میں لے جایا گیا، دونوں رنگوں کے درمیان ہر کھلاڑی کا سرخ رنگ میں نام لکھا گیا تھا۔
football world cup news in urdu 2014
Posted on by blogger with No comments
فٹ بال ورلڈکپ : الجرائز کی ٹیم کا انعامی رقم اہل غزہ کو عطیہ کرنے کااعلان
04 جولائی 2014 (19:42)
ریوڈی جنیرو(مانیٹرنگ ڈیسک) فٹ بال کے ورلڈکپ میں شریک الجزائر کی ٹیم نے انعام میں ملنے والی رقم کو اسرائیلی فوج کے ظلم و ستم کا شکار اہل غزہ کو عطیہ کرنے کا اعلان کردیا۔عالمی کپ ٹورنا منٹ کے پہلے مرحلے میں روس کے خلاف میچ میں گول سکور کرکے ٹیم کو فتح دلانے والے الجزائر کے کھلاڑی اسلام سلیمانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے محصور فلسطینی ہم سے زیادہ اس بونس رقم کے حق دار ہیں۔ یہ رقم قریبا 0 9 لاکھ ڈالر بنتی ہے .
واضح رہے کہ الجزائر واحد عرب ملک ہے جس کی ٹیم نے برازیل میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا اور وہ پہلی مرتبہ ناک آو¿ٹ مرحلے میں پہنچی تھی۔الجزائری ٹیم کو جرمنی کے خلاف اہم میچ میں اضافی وقت میں ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دوچار ہونا پڑا تھا اور شکست کے باوجود بہت سے مبصرین نے الجزائری کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہا اور ان کا کہنا ہے کہ الجزائری ٹیم نے مقررہ وقت میں جرمن ٹیم کا سخت مقابلہ کیا تھا حالانکہ بہت سے الجزائری کھلاڑی روزے سے تھے۔اپنے ملک وطن واپس پہنچنے پر الجرائری ٹیم کے کھلاڑیوں کا شانداراستقبال کیاگیااور ٹیم کو ہوائی اڈے سے سبز اور سفید رنگ سے پینٹ کی گئی ایک بس میں لے جایا گیا، دونوں رنگوں کے درمیان ہر کھلاڑی کا سرخ رنگ میں نام لکھا گیا تھا۔
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان گرفتار
04 جولائی 2014 (22:33)
بولٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عامر خان پر 2افراد کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے اور ان پر تشدد کرنے کا الزام ہے جس پر برطانوی پولیس نے انہیں گرفتار کیا تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ جھگڑے میں ان کے ہاتھوں پٹنے والے دونوں افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
News On Top Hot Latest Pakistani News In Urdu 2014 Today
Posted on by blogger with No comments
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان گرفتار
04 جولائی 2014 (22:33)
بولٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کو لندن میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عامر خان پر 2افراد کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرنے اور ان پر تشدد کرنے کا الزام ہے جس پر برطانوی پولیس نے انہیں گرفتار کیا تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ۔ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ جھگڑے میں ان کے ہاتھوں پٹنے والے دونوں افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
دو پاکستانی برطانیہ میں ہیروئن سمگل کرتے پکڑے گئے
04 جولائی 2014 (20:59)
لندن (نیوز ڈیسک) پاکستان سے کتابوِں، سوٹ کیسوں اور کپڑوں میں ہیروئن چھپا کر دنیا کے درجن بھر ممالک میں لے جانے والے گینگ کا سرغنہ طاہر محمود بالآخر برطانیہ میں گرفتار ہونے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔ برطانیہ کی یشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس گینگ نے پاکستان 46 کلو گرام اے کلاس ہیروئن سمگل کی جس کی قیمت عالمی منڈی میں اربوں روپے ہے۔ یہ گینگ برطانیہ، نیدر لینڈ، جرمنی، آسٹریا، سپین، دبئی اور پاکستان میں کام کررہا تھا۔ اس گروہ کے کارندے پاکستان سے دبئی کے راستے یورپی ممالک کو ہیروئن سمگل کرتے تھے۔ یہ لوگ اس مقصد کے لئے خاص طور پر تیار کردہ لباس استعمال کرتے تھے جس کے خفیہ خانوں میں ہیروئن چھپائی جاتی تھی۔ اسی طرح کتابوں اور سوٹ کیسوں میں بھی خفیہ جگہیں بنا کر ہیروئن سمگل کررہے تھے۔ برطانوی پولیس کے مطابق طاہر محمود اور اس کے دست راست بشیر نے برمنگھم ایئرپورٹ کے باہر ایک کارندے سے ملاقات کی جس نے ہیروئن چھپانے والا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے ایک جگہ گاڑی روک کر اس کارندے کو گرفتار کرلیا۔ اسی طرح دیگر کارندوں کے ساتھ میل جول کے ثبوت بھی حاصل کئے گئے اور مقدمہ عدالت میں پیش کردیا گیا۔ عدالت نے 53 سالہ سرغنہ طاہر محمود کو 16 سال جبکہ اس کے دستِ راست انور بشیر کو 15 سال قید کی سزا سنائی۔
Two paki Males Did Wrong
Posted on by blogger with No comments
دو پاکستانی برطانیہ میں ہیروئن سمگل کرتے پکڑے گئے
04 جولائی 2014 (20:59)
لندن (نیوز ڈیسک) پاکستان سے کتابوِں، سوٹ کیسوں اور کپڑوں میں ہیروئن چھپا کر دنیا کے درجن بھر ممالک میں لے جانے والے گینگ کا سرغنہ طاہر محمود بالآخر برطانیہ میں گرفتار ہونے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔ برطانیہ کی یشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس گینگ نے پاکستان 46 کلو گرام اے کلاس ہیروئن سمگل کی جس کی قیمت عالمی منڈی میں اربوں روپے ہے۔ یہ گینگ برطانیہ، نیدر لینڈ، جرمنی، آسٹریا، سپین، دبئی اور پاکستان میں کام کررہا تھا۔ اس گروہ کے کارندے پاکستان سے دبئی کے راستے یورپی ممالک کو ہیروئن سمگل کرتے تھے۔ یہ لوگ اس مقصد کے لئے خاص طور پر تیار کردہ لباس استعمال کرتے تھے جس کے خفیہ خانوں میں ہیروئن چھپائی جاتی تھی۔ اسی طرح کتابوں اور سوٹ کیسوں میں بھی خفیہ جگہیں بنا کر ہیروئن سمگل کررہے تھے۔ برطانوی پولیس کے مطابق طاہر محمود اور اس کے دست راست بشیر نے برمنگھم ایئرپورٹ کے باہر ایک کارندے سے ملاقات کی جس نے ہیروئن چھپانے والا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے ایک جگہ گاڑی روک کر اس کارندے کو گرفتار کرلیا۔ اسی طرح دیگر کارندوں کے ساتھ میل جول کے ثبوت بھی حاصل کئے گئے اور مقدمہ عدالت میں پیش کردیا گیا۔ عدالت نے 53 سالہ سرغنہ طاہر محمود کو 16 سال جبکہ اس کے دستِ راست انور بشیر کو 15 سال قید کی سزا سنائی۔
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی وزیر ملک میں خوفناک رفتار سے بڑھتے گینگ ریپ کے واقعات کی روم تھام میں مکمل ناکامی کے بعد مسلسل بہانے بازی سے کام لے رہے ہیں اور اب ایک وزیر نے بیان دیا ہے کہ بھارت کے تفریحی ساحلوں پر پیش آنے والے جنسی زیادتی کے واقعات کی اصل وجہ عورتوں کا بکنی (مغربی عورتوں کا انتہائی مختصر لباس) پہننا ہے۔ سدین دھوالکر، جو کہ ریاست گووا میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے وزیر ہیں، کا کہنا ہے کہ گووا کے ساحل پر جنسی زیادتی کے واقعات ان لڑکیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جو بکنی پہن کر یہاں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مردوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے لہٰذا عورتیں خود احتیاط کریں اور ساحل پر بکنی پہن کر نہ آئیں۔ وزیر موصوف نے مطالبہ کیا کہ بھارتی ساحلوں پر بکنی پہننے والی لڑکیوں کا داخلہ ممنوع ہونا چاہیے اور شراب خانوں میں بھی عورتوں کے مختصر سکرٹ پہننے پر پابندی ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکام معاشرے کی اخلاقی زبوں حالی اور برائی پھیلانے والے افراد اور اداروں کا قلع قمع کرنے پر تیار نہیں اور عموماً کوشش کرتے ہیں کہ عورتوں کے خلاف جرائم کا ذمہ دار بھی کسی نہ کسی طرح عورتوں کو ہی قرار دیا جائے۔ اس سے پہلے بھی ایک بھارتی وزیر یہ کہہ چکے ہیں کہ بعض دفعہ عورتوں کی عصمت دری صحیح کام ہوتا ہے۔
بھارت میں ریپ کی ’بڑی وجہ‘ وزیر نے بتادی، دنیا ناراض
Posted on by blogger with No comments
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی وزیر ملک میں خوفناک رفتار سے بڑھتے گینگ ریپ کے واقعات کی روم تھام میں مکمل ناکامی کے بعد مسلسل بہانے بازی سے کام لے رہے ہیں اور اب ایک وزیر نے بیان دیا ہے کہ بھارت کے تفریحی ساحلوں پر پیش آنے والے جنسی زیادتی کے واقعات کی اصل وجہ عورتوں کا بکنی (مغربی عورتوں کا انتہائی مختصر لباس) پہننا ہے۔ سدین دھوالکر، جو کہ ریاست گووا میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے وزیر ہیں، کا کہنا ہے کہ گووا کے ساحل پر جنسی زیادتی کے واقعات ان لڑکیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں جو بکنی پہن کر یہاں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مردوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے لہٰذا عورتیں خود احتیاط کریں اور ساحل پر بکنی پہن کر نہ آئیں۔ وزیر موصوف نے مطالبہ کیا کہ بھارتی ساحلوں پر بکنی پہننے والی لڑکیوں کا داخلہ ممنوع ہونا چاہیے اور شراب خانوں میں بھی عورتوں کے مختصر سکرٹ پہننے پر پابندی ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ بھارتی حکام معاشرے کی اخلاقی زبوں حالی اور برائی پھیلانے والے افراد اور اداروں کا قلع قمع کرنے پر تیار نہیں اور عموماً کوشش کرتے ہیں کہ عورتوں کے خلاف جرائم کا ذمہ دار بھی کسی نہ کسی طرح عورتوں کو ہی قرار دیا جائے۔ اس سے پہلے بھی ایک بھارتی وزیر یہ کہہ چکے ہیں کہ بعض دفعہ عورتوں کی عصمت دری صحیح کام ہوتا ہے۔
جمعرات، 3 جولائی، 2014
شکاگو (نیوز ڈیسک) سگریٹ نوشی اور غیر صحت بخش غذاﺅں کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور متعدد دیگر مسائل پیدا ہوجاتے ہیں لیکن ایک تازہ سائنسی تحقیق نے خوشخبری دی ہے کہ اگر آپ پچاس سال کی عمر تک بھی اپنی بری عادات کو چھوڑ دیں تو نہ صرف مزید مسائل سے بچ جائیں گے بلکہ کوشش کریں تو جو نقصان ہوچکا ہے اس کے اثرات بھی ختم کئے جاسکتے ہیں۔ امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بہتر تو یہ ہے کہ آپ 30 سال کی عمر تک غیر صحت بخش عادات کو چھوڑدیں لیکن 40 سے 50 سال تک کی عمر تک بھی اگر سگریٹ نوشی چھوڑدی جائے اور بہتر غذا اور ورزش کی عادت کو اپنایا جائے تو دل کی بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ سائنسی جریدے ”سرکولیشن“ میں شائع ہوئے، اس تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ سگریٹ نوشی، شراب نوشی، غیر صحت بخش غذا اور دیگر منفی عادات شروع کرنے والے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کم عمر کی بجائے زیادہ عمر میں صحت بخش عادات نہ اپنانے والے صحت کے زیادہ خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ پروفیسر بونی سپرنگز نے اچھی صحت کیلئے کچھ مفید مشورے بھی دئیے۔ ان کا کہنا ہے کہ خوش و خرم صحت مند زندگی کیلئے وزن زیادہ نہ ہونے دیں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں، ہفتے میں کم از کم پانچ دفعہ 30 منٹ کیلئے ورزش ضرور کریں، شراب نوشی سے دور رہیں اور زیادہ فائبر والی غذائیں استعمال کریں خصوصاً جن میں سوڈیم کم ہو اور پھلوں اور سبزیوں کو خوراک کا ضروری حصہ بنائیں۔
سگریٹ پینے والے نوجوانوں کے لئے واحد خوشخبری
Posted on by blogger with No comments
شکاگو (نیوز ڈیسک) سگریٹ نوشی اور غیر صحت بخش غذاﺅں کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور متعدد دیگر مسائل پیدا ہوجاتے ہیں لیکن ایک تازہ سائنسی تحقیق نے خوشخبری دی ہے کہ اگر آپ پچاس سال کی عمر تک بھی اپنی بری عادات کو چھوڑ دیں تو نہ صرف مزید مسائل سے بچ جائیں گے بلکہ کوشش کریں تو جو نقصان ہوچکا ہے اس کے اثرات بھی ختم کئے جاسکتے ہیں۔ امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بہتر تو یہ ہے کہ آپ 30 سال کی عمر تک غیر صحت بخش عادات کو چھوڑدیں لیکن 40 سے 50 سال تک کی عمر تک بھی اگر سگریٹ نوشی چھوڑدی جائے اور بہتر غذا اور ورزش کی عادت کو اپنایا جائے تو دل کی بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ سائنسی جریدے ”سرکولیشن“ میں شائع ہوئے، اس تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ سگریٹ نوشی، شراب نوشی، غیر صحت بخش غذا اور دیگر منفی عادات شروع کرنے والے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کم عمر کی بجائے زیادہ عمر میں صحت بخش عادات نہ اپنانے والے صحت کے زیادہ خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ پروفیسر بونی سپرنگز نے اچھی صحت کیلئے کچھ مفید مشورے بھی دئیے۔ ان کا کہنا ہے کہ خوش و خرم صحت مند زندگی کیلئے وزن زیادہ نہ ہونے دیں، سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں، ہفتے میں کم از کم پانچ دفعہ 30 منٹ کیلئے ورزش ضرور کریں، شراب نوشی سے دور رہیں اور زیادہ فائبر والی غذائیں استعمال کریں خصوصاً جن میں سوڈیم کم ہو اور پھلوں اور سبزیوں کو خوراک کا ضروری حصہ بنائیں۔
اسلام آباد (نیوزڈیسک ) رمضان المبارک میں پیاس کا احساس اس وقت مزید شدت اختیار کر لیتا ہے جب یہ ماہ مقدس موسم گرما میں آتا ہے، کیوں کہ ایک طرف گرمی کا زور ہوتا ہے تو دوسری طرف روزہ کا دورانیہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا ماہ صیام میں جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار کو برقرار اور پیاس سے مقابلہ کرنا نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تو یہاں ہم آپ کو پیاس پر قابو پانے کے چند نسخے بتانے جا رہے ہیں۔
پانی: پیاس بجھانے کا بہترین ذریعہ پانی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماہرین کے مطابق پیاس کی شدت سے بچنے کے لئے روزانہ ڈیڑھ لٹر پانی ضرور پیئں۔ ماہرین پانی کے استعمال کا بھی طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی بھی پانی کی بوتل کو زیادہ دیر تک کھلا مت چھوڑیں کیوں کہ ایسا کرنے سے مختلف اقسام کے بیکٹریاز اس میں داخل ہوکر متعدد امراض کے جنم کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کو ہمیشہ ابال کر ٹھنڈا کرنے کے بعد استعمال کریں۔
ہر طرح کے لیکوئیڈ(مائع) کا استعمال: پیاس کے احساس کی شدت کو کم کرنے کے لئے پانی سے بھرپور سبزیوں اور قدرتی پھلوں کا جوس استعمال کریں۔ خیال رکھیں کہ ایسے جوسز سے پرہیز کیا جائے جن میں مصنوعی اجزاءیعنی شوگر اور رنگ وغیرہ شامل ہو۔
تازہ پھل اور سبزیاں: رات اور سحری کے وقت تازہ پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو ترجیح دیں، کیوں کہ یہ پانی کی خاص مقدار اور ریشوں سے بھرپور ہوتی ہےں، جو دیر تک آنتوں میں باقی رہتے ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے استعمال کا بنیادی مقصد بھوک اور پیاس کے احساس میں کمی لانا ہے۔
آخری وقت میں سحری کھانا: رات کے آخری حصہ میں نماز فجر سے کچھ دیر پہلے سحری کھانی چاہیے کیوں کہ یہ سنت بھی ہے۔ دیر سے سحری کھانے سے بھوک اور پیاس کے دورانیہ میں بھی کمی آئے گی، اس کے علاوہ سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں۔
اس کے علاوہ ایسی غذا سے پرہیز کریں جو جسم سے پانی کو چرا لیتی ہے، جس میں نمک، مصالحہ جات، سوڈا، براہ راست دھوپ کا جسم پر پڑنا وغیرہ شامل ہے۔
پانی: پیاس بجھانے کا بہترین ذریعہ پانی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماہرین کے مطابق پیاس کی شدت سے بچنے کے لئے روزانہ ڈیڑھ لٹر پانی ضرور پیئں۔ ماہرین پانی کے استعمال کا بھی طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی بھی پانی کی بوتل کو زیادہ دیر تک کھلا مت چھوڑیں کیوں کہ ایسا کرنے سے مختلف اقسام کے بیکٹریاز اس میں داخل ہوکر متعدد امراض کے جنم کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کو ہمیشہ ابال کر ٹھنڈا کرنے کے بعد استعمال کریں۔
ہر طرح کے لیکوئیڈ(مائع) کا استعمال: پیاس کے احساس کی شدت کو کم کرنے کے لئے پانی سے بھرپور سبزیوں اور قدرتی پھلوں کا جوس استعمال کریں۔ خیال رکھیں کہ ایسے جوسز سے پرہیز کیا جائے جن میں مصنوعی اجزاءیعنی شوگر اور رنگ وغیرہ شامل ہو۔
تازہ پھل اور سبزیاں: رات اور سحری کے وقت تازہ پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو ترجیح دیں، کیوں کہ یہ پانی کی خاص مقدار اور ریشوں سے بھرپور ہوتی ہےں، جو دیر تک آنتوں میں باقی رہتے ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے استعمال کا بنیادی مقصد بھوک اور پیاس کے احساس میں کمی لانا ہے۔
آخری وقت میں سحری کھانا: رات کے آخری حصہ میں نماز فجر سے کچھ دیر پہلے سحری کھانی چاہیے کیوں کہ یہ سنت بھی ہے۔ دیر سے سحری کھانے سے بھوک اور پیاس کے دورانیہ میں بھی کمی آئے گی، اس کے علاوہ سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں۔
اس کے علاوہ ایسی غذا سے پرہیز کریں جو جسم سے پانی کو چرا لیتی ہے، جس میں نمک، مصالحہ جات، سوڈا، براہ راست دھوپ کا جسم پر پڑنا وغیرہ شامل ہے۔
روزے میں پیاس سے بچنے کے آسان نسخے
Posted on by blogger with No comments
اسلام آباد (نیوزڈیسک ) رمضان المبارک میں پیاس کا احساس اس وقت مزید شدت اختیار کر لیتا ہے جب یہ ماہ مقدس موسم گرما میں آتا ہے، کیوں کہ ایک طرف گرمی کا زور ہوتا ہے تو دوسری طرف روزہ کا دورانیہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا ماہ صیام میں جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار کو برقرار اور پیاس سے مقابلہ کرنا نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تو یہاں ہم آپ کو پیاس پر قابو پانے کے چند نسخے بتانے جا رہے ہیں۔
پانی: پیاس بجھانے کا بہترین ذریعہ پانی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماہرین کے مطابق پیاس کی شدت سے بچنے کے لئے روزانہ ڈیڑھ لٹر پانی ضرور پیئں۔ ماہرین پانی کے استعمال کا بھی طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی بھی پانی کی بوتل کو زیادہ دیر تک کھلا مت چھوڑیں کیوں کہ ایسا کرنے سے مختلف اقسام کے بیکٹریاز اس میں داخل ہوکر متعدد امراض کے جنم کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کو ہمیشہ ابال کر ٹھنڈا کرنے کے بعد استعمال کریں۔
ہر طرح کے لیکوئیڈ(مائع) کا استعمال: پیاس کے احساس کی شدت کو کم کرنے کے لئے پانی سے بھرپور سبزیوں اور قدرتی پھلوں کا جوس استعمال کریں۔ خیال رکھیں کہ ایسے جوسز سے پرہیز کیا جائے جن میں مصنوعی اجزاءیعنی شوگر اور رنگ وغیرہ شامل ہو۔
تازہ پھل اور سبزیاں: رات اور سحری کے وقت تازہ پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو ترجیح دیں، کیوں کہ یہ پانی کی خاص مقدار اور ریشوں سے بھرپور ہوتی ہےں، جو دیر تک آنتوں میں باقی رہتے ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے استعمال کا بنیادی مقصد بھوک اور پیاس کے احساس میں کمی لانا ہے۔
آخری وقت میں سحری کھانا: رات کے آخری حصہ میں نماز فجر سے کچھ دیر پہلے سحری کھانی چاہیے کیوں کہ یہ سنت بھی ہے۔ دیر سے سحری کھانے سے بھوک اور پیاس کے دورانیہ میں بھی کمی آئے گی، اس کے علاوہ سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں۔
اس کے علاوہ ایسی غذا سے پرہیز کریں جو جسم سے پانی کو چرا لیتی ہے، جس میں نمک، مصالحہ جات، سوڈا، براہ راست دھوپ کا جسم پر پڑنا وغیرہ شامل ہے۔
پانی: پیاس بجھانے کا بہترین ذریعہ پانی ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماہرین کے مطابق پیاس کی شدت سے بچنے کے لئے روزانہ ڈیڑھ لٹر پانی ضرور پیئں۔ ماہرین پانی کے استعمال کا بھی طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی بھی پانی کی بوتل کو زیادہ دیر تک کھلا مت چھوڑیں کیوں کہ ایسا کرنے سے مختلف اقسام کے بیکٹریاز اس میں داخل ہوکر متعدد امراض کے جنم کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کو ہمیشہ ابال کر ٹھنڈا کرنے کے بعد استعمال کریں۔
ہر طرح کے لیکوئیڈ(مائع) کا استعمال: پیاس کے احساس کی شدت کو کم کرنے کے لئے پانی سے بھرپور سبزیوں اور قدرتی پھلوں کا جوس استعمال کریں۔ خیال رکھیں کہ ایسے جوسز سے پرہیز کیا جائے جن میں مصنوعی اجزاءیعنی شوگر اور رنگ وغیرہ شامل ہو۔
تازہ پھل اور سبزیاں: رات اور سحری کے وقت تازہ پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو ترجیح دیں، کیوں کہ یہ پانی کی خاص مقدار اور ریشوں سے بھرپور ہوتی ہےں، جو دیر تک آنتوں میں باقی رہتے ہیں۔ پھل اور سبزیوں کے استعمال کا بنیادی مقصد بھوک اور پیاس کے احساس میں کمی لانا ہے۔
آخری وقت میں سحری کھانا: رات کے آخری حصہ میں نماز فجر سے کچھ دیر پہلے سحری کھانی چاہیے کیوں کہ یہ سنت بھی ہے۔ دیر سے سحری کھانے سے بھوک اور پیاس کے دورانیہ میں بھی کمی آئے گی، اس کے علاوہ سحری میں ہلکا پھلکا کھانا کھائیں۔
اس کے علاوہ ایسی غذا سے پرہیز کریں جو جسم سے پانی کو چرا لیتی ہے، جس میں نمک، مصالحہ جات، سوڈا، براہ راست دھوپ کا جسم پر پڑنا وغیرہ شامل ہے۔
دمام (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں پانچ صحت مند نوجوان خواتین نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا کہ وہ ایڈز کے مریضوں سے شادی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جدہ میں واقع ”سعودی سوسائٹی فار کمبیٹنگ ایڈز“ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر موسیٰ حیازی نے نوجوان خواتین کے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سوسائٹی میں تقریباً 700 ایڈز کے مریض رجسٹرڈ ہیں لیکن اس موزی بیماری کے خلاف معاشرے میں بہت بری رائے پائی جاتی ہے اس لئے کوئی ایڈز کے مریضوں سے شادی پر تیار نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کافی کوشش کے بعد 140 مریضوں کی شادیاں کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ان میں سے 95 فیصد شادیاں کامیاب چل رہی ہیں۔ انہوں نے سوسائٹی میں رجسٹرڈ ایک سعودی نوجوان کا ذکر بھی کیا جسے سکالر شپ پر پڑھنے کیلئے آسٹریلیا بھیجا گیا تھا لیکن وہ ایڈز کا شکار ہو گیا۔ موسی حیازی نے بتایا کہ ایڈز کے متعلق آگاہی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی لوگ کے ایڈز کے مریضوں سے دور بھاگتے ہیں اور انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ مایوس ہو کر طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں جن میں نشہ آور ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کافی کوشش کے بعد 140 مریضوں کی شادیاں کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ان میں سے 95 فیصد شادیاں کامیاب چل رہی ہیں۔ انہوں نے سوسائٹی میں رجسٹرڈ ایک سعودی نوجوان کا ذکر بھی کیا جسے سکالر شپ پر پڑھنے کیلئے آسٹریلیا بھیجا گیا تھا لیکن وہ ایڈز کا شکار ہو گیا۔ موسی حیازی نے بتایا کہ ایڈز کے متعلق آگاہی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی لوگ کے ایڈز کے مریضوں سے دور بھاگتے ہیں اور انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ مایوس ہو کر طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں جن میں نشہ آور ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔
سعودی خواتین کا دلیرانہ اقدام
Posted on by blogger with No comments
دمام (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں پانچ صحت مند نوجوان خواتین نے یہ اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا کہ وہ ایڈز کے مریضوں سے شادی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جدہ میں واقع ”سعودی سوسائٹی فار کمبیٹنگ ایڈز“ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر موسیٰ حیازی نے نوجوان خواتین کے اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سوسائٹی میں تقریباً 700 ایڈز کے مریض رجسٹرڈ ہیں لیکن اس موزی بیماری کے خلاف معاشرے میں بہت بری رائے پائی جاتی ہے اس لئے کوئی ایڈز کے مریضوں سے شادی پر تیار نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کافی کوشش کے بعد 140 مریضوں کی شادیاں کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ان میں سے 95 فیصد شادیاں کامیاب چل رہی ہیں۔ انہوں نے سوسائٹی میں رجسٹرڈ ایک سعودی نوجوان کا ذکر بھی کیا جسے سکالر شپ پر پڑھنے کیلئے آسٹریلیا بھیجا گیا تھا لیکن وہ ایڈز کا شکار ہو گیا۔ موسی حیازی نے بتایا کہ ایڈز کے متعلق آگاہی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی لوگ کے ایڈز کے مریضوں سے دور بھاگتے ہیں اور انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ مایوس ہو کر طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں جن میں نشہ آور ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کافی کوشش کے بعد 140 مریضوں کی شادیاں کروانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور ان میں سے 95 فیصد شادیاں کامیاب چل رہی ہیں۔ انہوں نے سوسائٹی میں رجسٹرڈ ایک سعودی نوجوان کا ذکر بھی کیا جسے سکالر شپ پر پڑھنے کیلئے آسٹریلیا بھیجا گیا تھا لیکن وہ ایڈز کا شکار ہو گیا۔ موسی حیازی نے بتایا کہ ایڈز کے متعلق آگاہی میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی لوگ کے ایڈز کے مریضوں سے دور بھاگتے ہیں اور انہیں اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ مایوس ہو کر طرح طرح کی برائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں جن میں نشہ آور ادویات کا استعمال بھی شامل ہے۔
منگل، 1 جولائی، 2014
دس سال پرانے ’نوکیا فون‘ نے ادھیڑ عمر شخص کی جان بچا لی
Posted on by blogger with No comments
Do you Think That Jesus Told about a New Messenger Of God and Also About New Following ???
Watch Complete Video >>> http://adf.ly/q02Ni
Click on Link and wait 5 seconds and then click on Skip ad on right top side of your browser screen...!!!
Watch Complete Video >>> http://adf.ly/q02Ni
Click on Link and wait 5 seconds and then click on Skip ad on right top side of your browser screen...!!!
Jesus Told about Muhammad in Bible
Posted on by blogger with No comments
Do you Think That Jesus Told about a New Messenger Of God and Also About New Following ???
Watch Complete Video >>> http://adf.ly/q02Ni
Click on Link and wait 5 seconds and then click on Skip ad on right top side of your browser screen...!!!
Watch Complete Video >>> http://adf.ly/q02Ni
Click on Link and wait 5 seconds and then click on Skip ad on right top side of your browser screen...!!!
Christian accepts Islam after challenging Zakir Naik at an Islamic
Conference :
Islam Is Spreading Day By Day, Specially In America. If you will give
10 minutes to a video so you will able to learn lot of things...
Note : Click On Video Icon and Then Wait at least 5 Seconds for Advertisement, After 5 seconds you will see ( Skip Ad ) option on Right Top Side of your Browser Screen, Click On Skip Ad and Watch Video...!!!
Christian accepts Islam after challenging Zakir Naik at an Islamic Conference
Posted on by blogger with No comments
Christian accepts Islam after challenging Zakir Naik at an Islamic
Conference :
Islam Is Spreading Day By Day, Specially In America. If you will give
10 minutes to a video so you will able to learn lot of things...
Note : Click On Video Icon and Then Wait at least 5 Seconds for Advertisement, After 5 seconds you will see ( Skip Ad ) option on Right Top Side of your Browser Screen, Click On Skip Ad and Watch Video...!!!
پیر، 30 جون، 2014
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ خوراک کی جانب سے فلور ملزم کو ماہ رمضان میں دئیے جانے والے گندم کے کوٹے میں کمی کردی گئی جس سے شہر میں رمضان کے مبارک مہینے میں آٹے کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ محکمہ خوراک نے بھی عوام کو نیا جھٹکا دیدیا ہے جس کے مطابق محکمہ خوراک نے فلور ملزم کو ماہ رمضان کیلئے دی جانیوالے گندم کے کوٹے میں کمی کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ رمضان میں فلور ملوں کو دی جانیوالی گندم 34 بوری فی باڈی تھی جبکہ اس سال رمضان کیلئے فراہم کی جانیوالی گندم کا کوٹہ پہلے 21 بوری فی باڈی مقرر کیا گیا تھا تاہم اب یہ کوٹہ 25 بوری فی باڈی کردیا گیا ہے جس کے باعث شہر میں آٹے کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے محکمہ خوراک میں تاحال ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا گیا جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے کہا ہے کہ کسی صورت آٹے کی قلت رمضان میں نہیں ہونے دیں گے، گزشتہ سال رمضان کی نسبت اس سال زیادہ گندم فراہم کریں گے۔
رمضان المبارک میں آٹے کی قلت کا خدشہ
Posted on by blogger with No comments
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ خوراک کی جانب سے فلور ملزم کو ماہ رمضان میں دئیے جانے والے گندم کے کوٹے میں کمی کردی گئی جس سے شہر میں رمضان کے مبارک مہینے میں آٹے کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ محکمہ خوراک نے بھی عوام کو نیا جھٹکا دیدیا ہے جس کے مطابق محکمہ خوراک نے فلور ملزم کو ماہ رمضان کیلئے دی جانیوالے گندم کے کوٹے میں کمی کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ رمضان میں فلور ملوں کو دی جانیوالی گندم 34 بوری فی باڈی تھی جبکہ اس سال رمضان کیلئے فراہم کی جانیوالی گندم کا کوٹہ پہلے 21 بوری فی باڈی مقرر کیا گیا تھا تاہم اب یہ کوٹہ 25 بوری فی باڈی کردیا گیا ہے جس کے باعث شہر میں آٹے کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے محکمہ خوراک میں تاحال ڈائریکٹر تعینات نہیں کیا گیا جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے کہا ہے کہ کسی صورت آٹے کی قلت رمضان میں نہیں ہونے دیں گے، گزشتہ سال رمضان کی نسبت اس سال زیادہ گندم فراہم کریں گے۔
اتوار، 29 جون، 2014
برمنگھم (نیوز ڈیسک) دن بھر کے کام کے بعد اچھی نیند جسم کی انتہائی اہم ضرورت ہوتی ہے اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ نیند کی کمی سے صحت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سونا کہیں زیادہ خطرناک ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ یونیورستی آف واروک کے سائنسدانوں نے 9000 سے زائد ادھیڑ عمر لوگوں پر تحقیق کی اور معلوم کیا کہ آٹھ گھنٹے سے زائد سونے والے افراد میں دماغی کمزوری، بھلکڑ پن، کمزور قوت فیصلہ اور دل کی بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ تحقیق کار ڈاکٹر مشیل نے بتایا کہ مختلف عمر کے لوگوں کی نیند کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ پروفیسر فرانچیسکو نے بتایا کہ نوعمر لوگوں کیلئے 6 سے 8 گھنٹے کی نیند انتہائی ضروری ہے اور 65 سال سے اوپر کے لوگوں کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق نیند لینی چاہیے۔ جب آپ سوکر اٹھیں تو تازہ دم محسوس کریں تب ہی آپ کی نیند کو مناسب کہا جاسکتا ہے۔ کم یا زیادہ نیند کی صورت میں تھکاوٹ اور غنودگی کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ سائنسدانوں نے بتایا کہ ادھیڑ عمر لوگوں میں ضرورت سے زیادہ نیند بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ذیا بیطس اور دل کی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ بے روزگار اور غریب لوگوں میں ضرورت سے زیادہ سونے کا خدشہ زیادہ پایا جاتا ہے۔


کتنی نیند بہترین؟ جدید سائنسی تحقیق
Posted on by blogger with No comments
برمنگھم (نیوز ڈیسک) دن بھر کے کام کے بعد اچھی نیند جسم کی انتہائی اہم ضرورت ہوتی ہے اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ نیند کی کمی سے صحت کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سونا کہیں زیادہ خطرناک ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ یونیورستی آف واروک کے سائنسدانوں نے 9000 سے زائد ادھیڑ عمر لوگوں پر تحقیق کی اور معلوم کیا کہ آٹھ گھنٹے سے زائد سونے والے افراد میں دماغی کمزوری، بھلکڑ پن، کمزور قوت فیصلہ اور دل کی بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ تحقیق کار ڈاکٹر مشیل نے بتایا کہ مختلف عمر کے لوگوں کی نیند کی ضرورت مختلف ہوتی ہے۔ پروفیسر فرانچیسکو نے بتایا کہ نوعمر لوگوں کیلئے 6 سے 8 گھنٹے کی نیند انتہائی ضروری ہے اور 65 سال سے اوپر کے لوگوں کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق نیند لینی چاہیے۔ جب آپ سوکر اٹھیں تو تازہ دم محسوس کریں تب ہی آپ کی نیند کو مناسب کہا جاسکتا ہے۔ کم یا زیادہ نیند کی صورت میں تھکاوٹ اور غنودگی کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ سائنسدانوں نے بتایا کہ ادھیڑ عمر لوگوں میں ضرورت سے زیادہ نیند بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور ذیا بیطس اور دل کی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ بے روزگار اور غریب لوگوں میں ضرورت سے زیادہ سونے کا خدشہ زیادہ پایا جاتا ہے۔


پیرس (نیوز ڈیسک) دارچینی کا استعمال مشرقی کھانوں میں صدیوں سے جاری ہے اور ہمارے ہاں اسے گرم دودھ اور چائے کمیں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ دار چینی صرف کھانوں کا لطف دوبالا کرنے کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کی طبی اہمیت حیرتناک ہے اور اسے ذیا بیطس، موٹاپے اور دل کی بیماریوں سے بچنے کیلئے بہترین نسخہ قرار دیا ہے۔ خصوصاً خون میں شوگر کی مقدار کی بے قاعدگی کو ختم کرنے کیلئے دار چینی بہت عمدہ غذا ہے۔ شوگر کی بے قاعدگی سے ذیا بیطس جیسا موذی مرض لاحق ہوجاتا ہے جس کی ابتدائی علامات میں ہر وقت کی تھکاوٹ، چڑچڑاپن، شدید بھوک اور وزن میں اضافہ شامل ہیں، امریکہ میں یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (USDA) کے سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ دار چینی جسم میں مقدرتی طور پر انسولین کو پیدا کرتی ہے جو کہ خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کے علاوہ کولیسٹرول بھی کنٹرول ہوجاتا ہے۔ امیر کن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق نے بھی انسولین کے فنکشن کو کنٹرول کرنے میں دار چینی کے اہم کردار کی تصدیق کردی ہے۔ دار چینی دل کی صحت اور بھوک کو کنٹرول کرنے میں بھی مفید پائی گئی ہے۔ ماہرین نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ دار چینی کو قدرتی حالت میں استعمال کرنے کی بجائے معالج کے مشورے سے اس کے منتخب اجزاءسے تیار کردہ گولیوں یا کیپسول کی صورت میں استعمال کرنا بہتر ہے۔
دارچینی کئی بیماریوں کے لئے مفید
Posted on by blogger with No comments
پیرس (نیوز ڈیسک) دارچینی کا استعمال مشرقی کھانوں میں صدیوں سے جاری ہے اور ہمارے ہاں اسے گرم دودھ اور چائے کمیں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ دار چینی صرف کھانوں کا لطف دوبالا کرنے کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کی طبی اہمیت حیرتناک ہے اور اسے ذیا بیطس، موٹاپے اور دل کی بیماریوں سے بچنے کیلئے بہترین نسخہ قرار دیا ہے۔ خصوصاً خون میں شوگر کی مقدار کی بے قاعدگی کو ختم کرنے کیلئے دار چینی بہت عمدہ غذا ہے۔ شوگر کی بے قاعدگی سے ذیا بیطس جیسا موذی مرض لاحق ہوجاتا ہے جس کی ابتدائی علامات میں ہر وقت کی تھکاوٹ، چڑچڑاپن، شدید بھوک اور وزن میں اضافہ شامل ہیں، امریکہ میں یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (USDA) کے سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ دار چینی جسم میں مقدرتی طور پر انسولین کو پیدا کرتی ہے جو کہ خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کے علاوہ کولیسٹرول بھی کنٹرول ہوجاتا ہے۔ امیر کن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق نے بھی انسولین کے فنکشن کو کنٹرول کرنے میں دار چینی کے اہم کردار کی تصدیق کردی ہے۔ دار چینی دل کی صحت اور بھوک کو کنٹرول کرنے میں بھی مفید پائی گئی ہے۔ ماہرین نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ دار چینی کو قدرتی حالت میں استعمال کرنے کی بجائے معالج کے مشورے سے اس کے منتخب اجزاءسے تیار کردہ گولیوں یا کیپسول کی صورت میں استعمال کرنا بہتر ہے۔
کھیلتے ہوئے پستول چل گیا، بچہ جاں بحق
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) فیکٹری ایریا کے علاقہ میں پستول سے کھیلتے ہوئے اچانک گولی چلنے سے تین سال کا بچہ جاں بحق ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق 3 سالہ حسنین گھر میں پڑی ہوئی اصلی پستول کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک پستول سے گولی چل گئی جو خود اسے لگ گئی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گیا۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات مشکوک ہیں، تفتیش کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گےکھیلتے ہوئے پستول چل گیا، بچہ جاں بحق
Posted on by blogger with No comments
کھیلتے ہوئے پستول چل گیا، بچہ جاں بحق
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) فیکٹری ایریا کے علاقہ میں پستول سے کھیلتے ہوئے اچانک گولی چلنے سے تین سال کا بچہ جاں بحق ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق 3 سالہ حسنین گھر میں پڑی ہوئی اصلی پستول کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک پستول سے گولی چل گئی جو خود اسے لگ گئی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گیا۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات مشکوک ہیں، تفتیش کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک طرف بھارت میں خواتین کیلئے ایمرجنسی میں مدد کیلئے پتلون تیار ہورہی تو دوسری طرف جنسی زیادتی کے واقعات بھی رکنے میں نہیں آرہے ، بھارتی ریاست اتر پردیش میں زیادتی کا ایک اور ہولناک واقعہ سامنے آگیاجہاں6 ملزمان نے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد زندہ جلاڈالا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ اترپردیش کے علاقے سیتا پور کے گاﺅں بیج پریا میں پیش آیا۔ لڑکی کوتشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا۔والدین کے مطابق وقاص نامی ملزم نے شادی سے انکار پر ساتھیوں کے ساتھ مل کر لڑکی کو اغوا کیا اور اس کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کرلی گئی ہے تاہم ملزم کی نشاندہی کے باوجود کوئی گرفاری عمل میں نہ آسکی۔
بھارت میں اجتماعی زیادتی کا ایک اور واقعہ، لڑکی نذرآتش
Posted on by blogger with No comments
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک طرف بھارت میں خواتین کیلئے ایمرجنسی میں مدد کیلئے پتلون تیار ہورہی تو دوسری طرف جنسی زیادتی کے واقعات بھی رکنے میں نہیں آرہے ، بھارتی ریاست اتر پردیش میں زیادتی کا ایک اور ہولناک واقعہ سامنے آگیاجہاں6 ملزمان نے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کے بعد زندہ جلاڈالا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ہولناک واقعہ اترپردیش کے علاقے سیتا پور کے گاﺅں بیج پریا میں پیش آیا۔ لڑکی کوتشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیا۔والدین کے مطابق وقاص نامی ملزم نے شادی سے انکار پر ساتھیوں کے ساتھ مل کر لڑکی کو اغوا کیا اور اس کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کرلی گئی ہے تاہم ملزم کی نشاندہی کے باوجود کوئی گرفاری عمل میں نہ آسکی۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
















