پیرس (نیوز ڈیسک) دارچینی کا استعمال مشرقی کھانوں میں صدیوں سے جاری ہے اور ہمارے ہاں اسے گرم دودھ اور چائے کمیں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ دار چینی صرف کھانوں کا لطف دوبالا کرنے کا ذریعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کی طبی اہمیت حیرتناک ہے اور اسے ذیا بیطس، موٹاپے اور دل کی بیماریوں سے بچنے کیلئے بہترین نسخہ قرار دیا ہے۔ خصوصاً خون میں شوگر کی مقدار کی بے قاعدگی کو ختم کرنے کیلئے دار چینی بہت عمدہ غذا ہے۔ شوگر کی بے قاعدگی سے ذیا بیطس جیسا موذی مرض لاحق ہوجاتا ہے جس کی ابتدائی علامات میں ہر وقت کی تھکاوٹ، چڑچڑاپن، شدید بھوک اور وزن میں اضافہ شامل ہیں، امریکہ میں یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (USDA) کے سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ دار چینی جسم میں مقدرتی طور پر انسولین کو پیدا کرتی ہے جو کہ خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کے علاوہ کولیسٹرول بھی کنٹرول ہوجاتا ہے۔ امیر کن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق نے بھی انسولین کے فنکشن کو کنٹرول کرنے میں دار چینی کے اہم کردار کی تصدیق کردی ہے۔ دار چینی دل کی صحت اور بھوک کو کنٹرول کرنے میں بھی مفید پائی گئی ہے۔ ماہرین نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ دار چینی کو قدرتی حالت میں استعمال کرنے کی بجائے معالج کے مشورے سے اس کے منتخب اجزاءسے تیار کردہ گولیوں یا کیپسول کی صورت میں استعمال کرنا بہتر ہے۔
اتوار، 29 جون، 2014
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں