ہفتہ، 15 نومبر، 2014

دبئی (ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں بدھ سے ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹرام سروس کا آغاز ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے حادثات سے بچانے کیلئے 150 پولیس افسران اور 64 سپیڈ کیمروں کی مدد لی جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس نے شہر میں گاڑیاں چلانے والے افراد کو خبر دار کیا ہے کہ اگر شہر کی سڑکوں پر ٹرام کے راستے پر واقع 30 جنکشنوں میں سے کسی پر بھی وہ تصادم کا باعث بنے تو انہیں 30 ہزار درہم تک جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔

دبئی: ٹرام سروس شروع، راستے میں آنے والے کو جرمانہ ہوگا

دبئی (ویب ڈیسک)متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں بدھ سے ساڑھے دس کلومیٹر طویل ٹرام سروس کا آغاز ہوگیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اسے حادثات سے بچانے کیلئے 150 پولیس افسران اور 64 سپیڈ کیمروں کی مدد لی جائے گی۔اہم بات یہ ہے کہ دبئی پولیس نے شہر میں گاڑیاں چلانے والے افراد کو خبر دار کیا ہے کہ اگر شہر کی سڑکوں پر ٹرام کے راستے پر واقع 30 جنکشنوں میں سے کسی پر بھی وہ تصادم کا باعث بنے تو انہیں 30 ہزار درہم تک جرمانہ اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرائیور حضرات کے علاوہ سائیکل سواروں اور راہ گیروں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ٹرام کے راستے کے قریب محتاط رہیں۔ ٹرام لائن عبور کرنے کے مقررہ مقامات کے علاوہ کہیں اور سے اسے پھلانگنے پر ایک ہزار درہم جرمانہ ہوگا۔خیال رہے کہ دبئی میں ٹریفک جام ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حل کیلئے حکام ٹرام سے قبل میٹرو ٹرین بھی چلا چکے ہیں جس پر عوام کی بڑی تعداد سفر کرتی ہے۔ادارے کے اہلکار مطع بن عبیدی کے مطابق لوگ ممنوعہ علاقوں میں داخل نہ ہوں کیونکہ ٹرام انہیں بچانے کیلئے اپنا راستہ تبدیل نہیں کر سکتی۔ دبئی میں چلائی جانے والی ٹرام میں مرد و خواتین کیلئے الگ الگ جگہ ہوگی۔
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کو یہ جان کر یقینا خوشگوار حیرات ہو گی لاہور صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک لاہور ہے جو کہ عنقریب اپنی مشرقی خوبصورتی، روایات، کھانوں اور زندہ دلی کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔ امریکہ کا لاہور دارالحکومت واشنگٹن سے 75 میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ہے جس کی بنیاد 1850ءکی دہائی میں ایک امریکی جوڑے نے موجودہ پاکستانی لاہور کی جنگ آزادی کے حوالہ سے شہرت سے متاثر ہو کر رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نور نغمی نے پاکستانی لاہور کی محبت سے سرشار ہو کر 235 ایکڑ پر مشتمل امریکی لاہور کو 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید لیا ہے اور اب وہ اسے لاہوری ثقافت اور روایات کا مرکز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ امریکی لاہور میں شالامار باغ کی طرز کا ایک ضیافت خانہ، لائبریری، میوزیم اور پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ کھولے جائیں۔ انہوں نے امریکی لاہور کی عمارتوں کو پاکستانی لاہور کی شکل دینے کیلئے حیدر آباد کے ایک فلم سٹوڈیو سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ نور نغمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی لاہور میں پاکستانی لاہور کے انداز میں بھرپور طریقے سے رنگا رنگ بسنت بھی منائی جائے گی۔
latest urdu news

Lahore in America

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کو یہ جان کر یقینا خوشگوار حیرات ہو گی لاہور صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک لاہور ہے جو کہ عنقریب اپنی مشرقی خوبصورتی، روایات، کھانوں اور زندہ دلی کے ساتھ دنیا کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے۔ امریکہ کا لاہور دارالحکومت واشنگٹن سے 75 میل کے فاصلے پر واقع ایک گاﺅں ہے جس کی بنیاد 1850ءکی دہائی میں ایک امریکی جوڑے نے موجودہ پاکستانی لاہور کی جنگ آزادی کے حوالہ سے شہرت سے متاثر ہو کر رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک معروف پاکستانی نور نغمی نے پاکستانی لاہور کی محبت سے سرشار ہو کر 235 ایکڑ پر مشتمل امریکی لاہور کو 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید لیا ہے اور اب وہ اسے لاہوری ثقافت اور روایات کا مرکز بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ امریکی لاہور میں شالامار باغ کی طرز کا ایک ضیافت خانہ، لائبریری، میوزیم اور پاکستانی کھانوں کے ریسٹورنٹ کھولے جائیں۔ انہوں نے امریکی لاہور کی عمارتوں کو پاکستانی لاہور کی شکل دینے کیلئے حیدر آباد کے ایک فلم سٹوڈیو سے بھی رابطہ کر لیا ہے۔ نور نغمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی لاہور میں پاکستانی لاہور کے انداز میں بھرپور طریقے سے رنگا رنگ بسنت بھی منائی جائے گی۔
latest urdu news