جمعہ، 4 جولائی، 2014

Two paki Males Did Wrong

دو پاکستانی برطانیہ میں ہیروئن سمگل کرتے پکڑے گئے

04 جولائی 2014 (20:59)

دو پاکستانی برطانیہ میں ہیروئن سمگل کرتے پکڑے گئے
لندن (نیوز ڈیسک) پاکستان سے کتابوِں، سوٹ کیسوں اور کپڑوں میں ہیروئن چھپا کر دنیا کے درجن بھر ممالک میں لے جانے والے گینگ کا سرغنہ طاہر محمود بالآخر برطانیہ میں گرفتار ہونے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے۔ برطانیہ کی یشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس گینگ نے پاکستان 46 کلو گرام اے کلاس ہیروئن سمگل کی جس کی قیمت عالمی منڈی میں اربوں روپے ہے۔ یہ گینگ برطانیہ، نیدر لینڈ، جرمنی، آسٹریا، سپین، دبئی اور پاکستان میں کام کررہا تھا۔ اس گروہ کے کارندے پاکستان سے دبئی کے راستے یورپی ممالک کو ہیروئن سمگل کرتے تھے۔ یہ لوگ اس مقصد کے لئے خاص طور پر تیار کردہ لباس استعمال کرتے تھے جس کے خفیہ خانوں میں ہیروئن چھپائی جاتی تھی۔ اسی طرح کتابوں اور سوٹ کیسوں میں بھی خفیہ جگہیں بنا کر ہیروئن سمگل کررہے تھے۔ برطانوی پولیس کے مطابق طاہر محمود اور اس کے دست راست بشیر نے برمنگھم ایئرپورٹ کے باہر ایک کارندے سے ملاقات کی جس نے ہیروئن چھپانے والا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے ایک جگہ گاڑی روک کر اس کارندے کو گرفتار کرلیا۔ اسی طرح دیگر کارندوں کے ساتھ میل جول کے ثبوت بھی حاصل کئے گئے اور مقدمہ عدالت میں پیش کردیا گیا۔ عدالت نے 53 سالہ سرغنہ طاہر محمود کو 16 سال جبکہ اس کے دستِ راست انور بشیر کو 15 سال قید کی سزا سنائی۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں